Baaghi TV

احمد آباد طیارہ حادثے کے مقام پر نئے ہاسٹل کی تعمیر کا فیصلہ ،لواحقین کا احتجاج

بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں گزشتہ برس 12 جون 2025 کو پیش آنے والے ایئر انڈیا طیارہ حادثہ کے مقام پر میڈیکل طلبا کے لیے نئے ہاسٹل کی تعمیر کی منظوری دے دی گئی ہے، تاہم متاثرہ خاندانوں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس مقام کو یادگار قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ریاستی حکومت کے مطابق میگھانی نگر کے علاقے میں واقع سابق ’اتولیہ ہاسٹل‘ کی جگہ جدید 8+8 منزلہ عمارت تعمیر کی جائے گی، جہاں 236 ڈاکٹروں اور پوسٹ گریجویٹ طلبا کی رہائش کا انتظام ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے لیے ایئر انڈیا کی مالک کمپنی ٹاٹا گروپ کی ایئرلائن شاخ ’ٹاٹا ایئرلائنس‘ محکمہ صحت کو 53 کروڑ روپے سے زائد کا معاوضہ ادا کرے گی۔

حادثہ 12 جون 2025 کو دوپہر 1 بج کر 38 منٹ پر پیش آیا تھا، جب ایئر انڈیا کا طیارہ میگھانی نگر میں واقع ہاسٹل اور میس کی عمارت پر گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ حادثے کے وقت ہاسٹل میں 92 طلبا موجود تھے۔ بعد ازاں ڈھانچہ جاتی آڈٹ کے بعد عمارت کو غیر محفوظ قرار دے کر منہدم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔گجرات کے وزیر صحت پرفل پانسیریا کے مطابق اساروا کے سول اسپتال کے قریب نئے کیمپس میں 105 کروڑ روپے کی لاگت سے سپر اسپیشلٹی ہاسٹل اور کینٹین بلاک تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت ’اتولیہ 1 سے 7‘ کے نام سے جدید طرز کا پی جی ہاسٹل بنایا جائے گا، جس میں اسٹوڈیو اپارٹمنٹ طرز کے فلیٹس، جدید میس، جم، انٹرٹینمنٹ روم، بیسمنٹ پارکنگ، فائر سیفٹی سسٹم، آر او پلانٹ اور نکاسی آب کی جدید سہولیات شامل ہوں گی۔ریاستی حکومت نے بتایا کہ میڈیکل شعبے میں آئندہ برسوں میں اضافی 48 سپر اسپیشلٹی نشستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے رہائش کی گنجائش بڑھائی جا رہی ہے، جبکہ منصوبے کے لیے زمین بھی مختص کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب حادثے میں متاثرہ خاندانوں نے حکومت کو ای میل کے ذریعے اپیل کی ہے کہ اس مقام کو نئی تعمیرات کے بجائے یادگاری مقام کے طور پر محفوظ رکھا جائے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ جگہ ایک عمارت نہیں بلکہ انسانی جانوں، غم اور ناقابلِ تلافی نقصان کی علامت ہے، اس لیے اسے عوامی یادگار کے طور پر برقرار رکھا جانا چاہیے۔متاثرین نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے مقامات تاریخ اور اجتماعی یادداشت کا حصہ ہوتے ہیں اور انہیں جلد ختم کر دینا انسانی المیے کی حقیقت کو پس منظر میں دھکیل سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل متاثرہ خاندانوں سے مشاورت کی جائے۔

More posts