چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے ایران تنازع میں شامل فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اپنائیں تاکہ مشرق وسطیٰ میں جلد امن بحال ہو سکے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق وانگ یی نے اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ فریقین کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ دیرینہ تنازعات ایک دن میں حل نہیں ہوتے، لیکن مذاکرات کی جانب بڑھنے والا ہر قدم امن کی امید کو مضبوط بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “تنازع جتنا جلد ختم ہوگا، اتنی ہی کم شہری ہلاکتیں ہوں گی۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ امریکا نے جنوبی ایران میں کارروائی کرتے ہوئے نام نہاد دفاعی حملے کیے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران تنازع کے خاتمے کیلئے معاہدے تک پہنچنے میں ابھی چند دن لگ سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں چین عالمی سطح پر ایک متوازن سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا تناؤ عالمی امن، تیل کی منڈیوں اور مشرق وسطیٰ کے استحکام کیلئے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
چین اس سے قبل بھی ایران کے جوہری مسئلے اور خلیجی کشیدگی کے حل کیلئے سفارتی مذاکرات اور جنگ بندی کی حمایت کرتا رہا ہے۔
چین نے ایران تنازع میں جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دے دیا
