لندن: انگلینڈ اور ویلز میں شرحِ پیدائش ریکارڈ کم ترین سطح پر آگئی ہے جبکہ گزشتہ برس پیدا ہونے والے بچوں میں سے 40 فیصد سے زائد ایسے تھے جن کے کم از کم ایک والدین برطانیہ سے باہر پیدا ہوئے۔
برطانوی ادارہ برائے قومی شماریات کی جانب سے جاری نئے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں خواتین کی متوقع اوسط شرحِ پیدائش 1.39 بچوں تک گر گئی، جو 2024 میں 1.41 تھی۔ ماہرین کے مطابق آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے شرحِ پیدائش تقریباً 2.1 ہونا ضروری سمجھی جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں گزشتہ سال پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد تقریباً نصف صدی کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، جو گزشتہ ایک دہائی سے جاری مسلسل کمی کے رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔
اعداد و شمار میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2025 میں 40.2 فیصد بچے ایسے والدین کے ہاں پیدا ہوئے جن میں سے کم از کم ایک والدین برطانیہ سے باہر پیدا ہوا تھا، جبکہ یہ شرح 2024 میں 39.5 فیصد تھی۔غیر ملکی نژاد ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی شرح بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 2005 میں یہ شرح 20.8 فیصد تھی، جو 2015 میں 27.5 فیصد اور 2025 میں بڑھ کر 34.6 فیصد تک پہنچ گئی۔رپورٹ کے مطابق غیر برطانوی نژاد ماؤں میں بھارت سرفہرست رہا، جبکہ پاکستان، نائجیریا اور رومانیہ کا شمار بھی نمایاں ممالک میں ہوا۔
ادارہ شماریات کے سربراہ گریگ سیلی نے کہا کہ 2025 میں بچوں کی پیدائش کی تعداد تقریباً نصف صدی کی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور یہ رجحان گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل جاری ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیرِ تعلیم بریجٹ فلپسن نے شرحِ پیدائش میں کمی کی ایک بڑی وجہ مہنگائی اور بڑھتے ہوئے معاشی مسائل کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے کرایے، رہائشی قرضوں کی اقساط، ایندھن، خوراک اور بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات نے لوگوں کو بچے پیدا کرنے سے روک دیا ہے۔
