Baaghi TV

دوستی سے انکار ، اے آئی کے ذریعے خاتون کی جعلی نازیبا تصاویر بنانے والا گرفتار

بھارت کے دارالحکومت دہلی سے تعلق رکھنے والے ایک پجاری کو خاتون کی جعلی اور نازیبا تصاویر و ویڈیوز مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کرکے سوشل میڈیا پر پھیلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 27 سالہ ملزم سمت نیم چند شرما مذہبی ویڈیوز بنانے اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مذہبی بیانات دینے کے لیے جانا جاتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے آسانی سے دستیاب اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہوئے ایک خاتون اور اس کی والدہ کی تصاویر کو تبدیل کیا اور انہیں متعدد جعلی اکاؤنٹس پر اپ لوڈ کر دیا۔احمد آباد سٹی سائبر کرائم برانچ نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو دہلی سے گرفتار کیا۔ اس مہم کا مقصد خواتین کو آن لائن ہراسانی اور سائبر جرائم سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون، جو گجرات سے تعلق رکھتی ہے، کی ملزم سے سوشل میڈیا کے ذریعے جان پہچان ہوئی تھی۔ ملزم نے ابتدا میں انسٹاگرام پر مذہبی موضوعات پر گفتگو شروع کی، تاہم بعد ازاں اس نے خاتون سے دوستی کی کوشش کی جسے خاتون نے مسترد کر دیا۔

شکایت کے مطابق دوستی سے انکار کے بعد ملزم نے دسمبر 2025 سے 6 اپریل تک خاتون کا آن لائن تعاقب کیا۔ اس دوران اس نے خاتون اور اس کی والدہ کی تصاویر انسٹاگرام سے ڈاؤن لوڈ کیں اور انٹرنیٹ پر “AI Remove Clothes” جیسے ٹولز تلاش کرکے ان تصاویر کو نازیبا شکل دی۔پولیس حکام کے مطابق ملزم نے اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے 100 سے زائد جعلی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز تیار کیں۔ اس نے خاتون کے نام اور تصاویر استعمال کرتے ہوئے تین جعلی انسٹاگرام اکاؤنٹس اور ایک یوٹیوب چینل بھی بنایا، جہاں یہ مواد اپ لوڈ کیا گیا۔تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم نے ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر 8 سے 10 جعلی اکاؤنٹس بنا رکھے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کا مقصد خاتون اور اس کے خاندان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور ذہنی اذیت دینا تھا۔

متاثرہ خاتون نے بعد ازاں احمد آباد سائبر کرائم ٹیم سے رابطہ کیا، جس کے بعد انسپکٹر ایم ایچ بھیتاریا کی سربراہی میں ٹیم نے ڈیجیٹل ٹریکنگ اور خفیہ معلومات کی مدد سے ملزم کو شمال مشرقی دہلی کے علاقے عثمان پور سے گرفتار کر لیا۔پولیس نے ملزم کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

More posts