ایرانی میڈیا نے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک تحریری پیغام شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل شکست کے بعد ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے جاری اس پیغام میں ایرانی قوم کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور داخلی استحکام برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
اسلامی مشاورتی اسمبلی کے قیام کی سالگرہ کے موقع پر جاری ہونے والے اس پیغام میں کہا گیا کہ موجودہ حالات میں پارلیمنٹ کو بنیادی قومی مسائل پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
پیغام میں معیشت، روزگار، مہنگائی میں کمی، پیداوار میں اضافے اور عوام میں امید پیدا کرنے کو قومی ترجیحات قرار دیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران اس وقت شدید اقتصادی دباؤ اور کساد بازاری کا سامنا کر رہا ہے۔
پیغام میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باعث صنعتی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا جبکہ طویل انٹرنیٹ بندش اور بڑھتی مہنگائی نے عوام کیلئے معاشی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں موجودہ معاشی صورتحال، عالمی پابندیاں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی حکومت کیلئے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات ایران کے اندر قومی اتحاد کو مضبوط رکھنے اور بیرونی دباؤ کے خلاف عوامی حمایت برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں عسکری سرگرمیوں نے مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھا دی ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری تنازعات کے باعث ایران کو معاشی اور سفارتی دونوں محاذوں پر سخت دباؤ کا سامنا ہے۔
امریکہ کی ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، مجتبیٰ خامنہ ای
