اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی نے جنوبی لبنان میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے جہاں لاکھوں شہری اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے شہر صور (Tyre) اور اطراف میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے نئے فضائی حملے شروع کیے ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کی ثالثی میں 16 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی بھی تشدد روکنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔
تقریباً چھ ہفتوں تک جاری لڑائی کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اسرائیل اور حزب اللہ ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے تقریباً روزانہ حملے کر رہے ہیں۔
عالمی مبصرین کے مطابق مسلسل بمباری اور فوجی کارروائیوں کے باعث جنوبی لبنان کے سینکڑوں دیہات اور قصبے خالی ہو چکے ہیں۔
جنگ بندی کے فوراً بعد اسرائیل نے ایک نقشہ جاری کیا تھا جس میں تقریباً 600 مربع کلومیٹر پر مشتمل ایک بفر زون دکھایا گیا تھا جس پر اسرائیلی زمینی افواج نے قبضہ کیا ہوا ہے۔
اس نقشے میں 57 قصبوں اور دیہاتوں کو بھی نشان زد کیا گیا تھا جہاں کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں کے مطابق ہزاروں خاندان عارضی کیمپوں، اسکولوں اور پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں جبکہ بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں بجلی، پانی، طبی سہولیات اور خوراک کی قلت بھی سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں ایک طویل المدتی سکیورٹی بفر قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ حزب اللہ اسے لبنانی خودمختاری پر حملہ قرار دے رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو لبنان میں پہلے سے موجود معاشی اور انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد اور شہری آبادی کے تحفظ کیلئے مسلسل مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی حملوں سے جنوبی لبنان کے لاکھوں افراد بے گھر
