Baaghi TV


پاکستان کے تیز ترین تیراک حمزہ آصف کامن ویلتھ گیمز 2026 میں ملک کی نمائندگی کریں گے

‎پاکستان کے قومی چیمپئن اور ملک کے تیز ترین تیراک حمزہ آصف 2026 کے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں ہونے والے اس بڑے بین الاقوامی مقابلے میں حمزہ آصف کی شرکت پاکستانی کھیلوں کے لیے ایک اہم اعزاز سمجھی جا رہی ہے، جہاں وہ عالمی معیار کے تیراکوں کے مقابل اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔
‎حمزہ آصف کو پاکستان کے بہترین فری اسٹائل تیراکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مسلسل محنت، نظم و ضبط اور شاندار کارکردگی کے ذریعے قومی سطح پر اپنی الگ شناخت بنائی۔ ان کا کامن ویلتھ گیمز کے لیے انتخاب اس کامیاب سفر کا ایک اور اہم سنگ میل ہے، جو برسوں کی لگن اور کھیل سے بے پناہ محبت کا نتیجہ ہے۔
‎اپنے سفر کو یاد کرتے ہوئے حمزہ آصف نے بتایا کہ ان کے کیریئر کا سب سے اہم موڑ 2023 کی سینئر نیشنل سوئمنگ چیمپئن شپ تھی، جہاں انہوں نے 50 میٹر فری اسٹائل میں طلائی تمغہ جیت کر پاکستان کے تیز ترین تیراک کا اعزاز حاصل کیا۔
‎حمزہ آصف نے کہا کہ انہیں بچپن ہی سے تیراکی کا شوق تھا اور انہوں نے صرف چھ برس کی عمر میں اس کھیل کا آغاز کیا۔ ان کے مطابق اس وقت ملک میں عالمی معیار کی سہولیات یا جدید تربیتی نظام موجود نہیں تھا، لیکن کھیل سے محبت نے انہیں کبھی ہمت ہارنے نہیں دی۔ انہوں نے ہر روز خود کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور اپنے کوچز و رہنماؤں سے مسلسل سیکھتے رہے۔
‎انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دور میں محدود وسائل کے باوجود ان کا عزم کمزور نہیں ہوا۔ سخت محنت، روزانہ طویل دورانیے کی ٹریننگ اور مستقل مزاجی نے انہیں قومی درجہ بندی میں اوپر پہنچایا، یہاں تک کہ وہ پاکستان کے نمایاں فری اسٹائل تیراک بن گئے۔
‎حمزہ آصف کی غیر معمولی رفتار اور مسلسل بہترین کارکردگی کے باعث انہیں "دی راکٹ” کا لقب بھی دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کے لیے باعث فخر ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان کھلاڑی ان کی کامیابی سے حوصلہ حاصل کریں۔
‎انہوں نے کہا کہ کوئی بھی خواب ناممکن نہیں ہوتا، اگر انسان محنت، نظم و ضبط اور خود اعتمادی کو اپنا شعار بنا لے تو ہر رکاوٹ کو عبور کیا جا سکتا ہے۔ حمزہ آصف نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ وہ قومی سطح پر حاصل کی گئی کامیابیوں کو عالمی میدان میں بھی دہرا کر پاکستان کے لیے اعزازات جیتنے میں کامیاب ہوں گے۔
‎آخر میں حمزہ آصف نے اپنے ادارے، کوچز، اہل خانہ اور ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے کھیل کے سفر میں ہر قدم پر ان کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی۔

More posts