برطانوی اخبار ’’دی ٹیلی گراف‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے شہید رہنما اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ جمعرات کے روز تہران میں انتہائی سخت سکیورٹی حصار میں ادا کی گئی، جس میں ان کے اہلِ خانہ اور چند اعلیٰ سرکاری عہدے داروں نے شرکت کی۔دی ٹیلی گراف کے مطابق نمازِ جنازہ کی تقریب کو خفیہ رکھا گیا اور سکیورٹی خدشات کے باعث محدود افراد کو ہی شرکت کی اجازت دی گئی۔ تاہم اس خبر کی تاحال کسی آزاد یا بین الاقوامی ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ایران کی حکومت یا سرکاری میڈیا کی جانب سے بھی اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے پہلے روز اپنے چند اہلِ خانہ سمیت شہید ہوئے تھے۔ان حملوں میں ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا، جبکہ کئی اہم فوجی کمانڈرز اور مشیران بھی شہید ہوئے تھے۔ شہداء میں میجر جنرل عبدالرحیم موسوی، ریئر ایڈمرل علی شمخانی اور میجر جنرل محمد پاکپور شامل تھے۔
