امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی ریڈ لائنز واضح کر دی ہیں اور کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم سے دستبردار ہونا ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسکاٹ بیسینٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے معاملے پر کوئی کمزور یا ناقص معاہدہ قبول نہیں کریں گے اور امریکی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مؤقف واضح ہے اور تہران کو ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو خطے اور عالمی برادری کے تحفظات کو دور کر سکیں۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھلا رکھنا بھی کسی بھی ممکنہ مفاہمت کا اہم حصہ ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل میں آبنائے ہرمز کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے، اس لیے وہاں کسی قسم کی رکاوٹ قابل قبول نہیں ہو سکتی۔
ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ 60 روزہ جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت سے متعلق سوال پر اسکاٹ بیسینٹ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم حتمی فیصلے صدر ٹرمپ کی منظوری کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمانی حکام نے امریکا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس عائد کرنے یا نیا مالیاتی نظام نافذ کرنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں مثبت اثرات مرتب کیے ہیں جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی آئندہ مذاکرات کے اہم ترین نکات ہوں گے۔
ٹرمپ کی ریڈ لائنز واضح، ایران کو یورینیم افزودگی روکنا ہوگی
