کراچی بندرگاہ کے قریب دو بحری جہازوں کے درمیان تصادم کے بعد حکام نے جدہ جانے والے لائبیریا پرچم بردار جہاز ’’ایم وی پاپو‘‘ کو مزید کارروائی تک روانگی سے روک دیا ہے۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) ذرائع کے مطابق جہاز کو تحقیقات مکمل ہونے اور ضروری قانونی و تکنیکی کارروائی کے بعد ہی بندرگاہ چھوڑنے کی اجازت دی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل انکوائری کی جائے گی اور حادثے کے ذمہ دار عناصر کا تعین بھی کیا جائے گا۔دوسری جانب زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل بچھانے اور ان کی مرمت کے لیے استعمال ہونے والا متحدہ عرب امارات پرچم بردار جہاز ’’ایم وی نیوا‘‘ اس وقت پورٹ کی برتھ پر موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق جہاز کو ہونے والے نقصان کی مرمت جاری ہے اور بڑی تکنیکی مرمت کے بعد ہی اسے دوبارہ سمندری سفر کے قابل بنایا جا سکے گا۔
یاد رہے کہ جمعرات کی رات کراچی پورٹ کے داخلی راستے کے قریب فیئر وے بوائے کے باہر ’’ایم وی نیوا‘‘ اور ’’ایم وی پاپو‘‘ آپس میں ٹکرا گئے تھے۔ حادثہ رات تقریباً 8 بجے پیش آیا، تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کے جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔حادثے کے فوراً بعد کراچی پورٹ ٹرسٹ نے ہنگامی امدادی کارروائی شروع کرتے ہوئے اپنے چار بڑے ٹگز ایم ٹی میٹھادر، ایم ٹی کھارادر، ایم ٹی لیاری اور ایم ٹی کیماڑی کو موقع پر روانہ کیا۔ امدادی ٹیموں نے متاثرہ جہاز ’’ایم وی نیوا‘‘ کو بحفاظت کراچی ہاربر منتقل کیا، جہاں اسے مرمت کے لیے لنگر انداز کر دیا گیا۔کے پی ٹی کے اعلامیے کے مطابق بروقت کارروائی کے باعث جہاز رانی کے نظام اور سمندری ماحول کو لاحق ممکنہ خطرات کو ٹال دیا گیا، جبکہ بندرگاہ کی سرگرمیاں بھی متاثر نہیں ہوئیں۔
وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری نے واقعے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بحری حادثہ کراچی بندرگاہ کی حدود سے باہر پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں، جبکہ چیئرمین کراچی پورٹ نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ کراچی پورٹ پر بحری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
