کراچی میں پانی کی فراہمی ایک بار پھر شدید متاثر ہوگئی ہے، جہاں دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کی جانب سے کیے گئے جبری بجلی شٹ ڈاؤن کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی سپلائی معطل ہو گئی ہے۔ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق بجلی کی بندش نے پانی کی ترسیل کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ کے الیکٹرک نے دھابیجی گرڈ کے پاور ٹرانسفارمر نمبر ایک میں پیدا ہونے والے ایک اہم فنی نقص کی ہنگامی مرمت کے لیے 30 مئی کی شام ساڑھے چھ بجے بجلی کی فراہمی بند کی۔ اس اچانک شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے 21 میں سے 10 پمپنگ یونٹس کام کرنا چھوڑ گئے، جس سے کراچی کو پانی کی فراہمی کا پورا نظام متاثر ہوا۔
واٹر بورڈ حکام کے مطابق ابتدائی طور پر کے الیکٹرک نے صرف ایک گھنٹے کے لیے بجلی بند ہونے کی اطلاع دی تھی، تاہم بعد ازاں بجلی کی مکمل بحالی کے حوالے سے کوئی واضح وقت فراہم نہیں کیا گیا۔ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث پانی کی فراہمی کی بحالی بھی تاخیر کا شکار ہے۔
ترجمان کے مطابق اس وقت کراچی کو تقریباً 54 ملین گیلن یومیہ پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ بجلی کی معطلی سے کے ٹو پمپنگ اسٹیشن کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کے تھری فیڈر کے ذریعے بیک فیڈ فراہم کی گئی، تاہم محدود برقی استعداد کی وجہ سے پمپنگ آپریشن مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی فراہمی معمول پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم بجلی کی مکمل بحالی تک صورتحال معمول پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی کمی کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور متبادل ذرائع سے پانی حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پانی کا استعمال انتہائی احتیاط اور کفایت شعاری سے کریں تاکہ قلت کے دوران زیادہ سے زیادہ افراد کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔