وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے سبسڈی ختم کیے جانے سے متعلق خبروں اور خدشات پر اہم وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مستحق صارفین کی سبسڈی برقرار رکھے گی اور اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ سبسڈی مکمل طور پر ختم کر دی جائے۔
وزیر توانائی کے مطابق حکومت کا مقصد مستحق اور حق دار صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے، اسی لیے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے موجودہ سبسڈی نظام جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود کم آمدنی والے طبقے کو سہولت دینے کے لیے پرعزم ہے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ بجلی کے بلوں پر سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین سے اب کیو آر کوڈ کے ذریعے کچھ اضافی معلومات طلب کی جا رہی ہیں۔ اس نئے نظام کا مقصد سبسڈی کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانا ہے تاکہ اصل مستحق افراد تک حکومتی ریلیف پہنچ سکے اور کسی قسم کی بے ضابطگی سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس جدید نظام کے تحت اہل صارفین کی شناخت اور تصدیق کا عمل آسان ہوگا، جس سے سبسڈی کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے گی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ عوام کو دی جانے والی مالی معاونت درست افراد تک پہنچے اور کسی مستحق صارف کو اس سہولت سے محروم نہ ہونا پڑے۔
وفاقی وزیر توانائی کے مطابق آئندہ سبسڈی کی فراہمی قومی شناختی کارڈ نمبر اور گھرانے کی بنیاد پر کی جائے گی۔ اس طریقہ کار سے ایک ہی خاندان یا گھرانے کے بجلی استعمال کے اعداد و شمار کا بہتر انداز میں جائزہ لیا جا سکے گا اور سبسڈی کا نظام مزید منظم اور شفاف بنایا جا سکے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ کم آمدنی والے صارفین کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سبسڈی کا نظام درست انداز میں ہدفی بنیادوں پر نافذ کیا گیا تو اس سے نہ صرف مستحق افراد کو فائدہ ہوگا بلکہ قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ بھی کم کیا جا سکے گا۔
200 یونٹ تک صارفین کی سبسڈی ختم نہیں ہوگی، اویس لغاری
