Baaghi TV


بیفورٹ قلعے پر قبضہ حزب اللہ کے خلاف اہم موڑ ہے، نیتن یاہو

israel

‎اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں واقع تاریخی بیفورٹ قلعے پر اسرائیلی فوج کے قبضے کو حزب اللہ کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام اسرائیل کی نئی سیکیورٹی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
‎ایک ویڈیو پیغام میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل آج ایک مختلف انداز میں بیفورٹ واپس آیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل پہلے سے زیادہ متحد، پرعزم اور طاقتور ہے اور اپنے دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
‎اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ بیفورٹ قلعے پر قبضہ محض ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ اسرائیلی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اب دفاعی انداز سے آگے بڑھتے ہوئے مختلف محاذوں پر فعال کردار اختیار کر لیا ہے۔
‎نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل نے خوف کی رکاوٹ کو ختم کر دیا ہے اور اب وہ حالات کے مطابق فوری فیصلے اور اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فورسز شام، غزہ اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم عمل ہیں اور اپنے سیکیورٹی اہداف کے حصول کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
‎بیفورٹ قلعہ جنوبی لبنان کا ایک تاریخی اور اسٹریٹجک مقام سمجھا جاتا ہے۔ اس علاقے کی جغرافیائی اہمیت کے باعث ماضی میں بھی یہ مختلف فوجی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ حالیہ قبضے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
‎دوسری جانب لبنان اور خطے کے مختلف حلقوں کی جانب سے اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی جنوبی لبنان کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ کئی ممالک نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔
‎سیاسی مبصرین کے مطابق بیفورٹ قلعے پر قبضے اور نیتن یاہو کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنی علاقائی سیکیورٹی پالیسی میں مزید جارحانہ حکمت عملی اختیار کر رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

More posts