گوجرخان خون کی ہولی دوہرے قتل کو دو ہفتے بیت گئے، پولیس اور سی سی ڈی کی پراسرار خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے
سفید پوشی کا جنازہ نام نہاد سماجی تنظیمیں اور سیاسی پیشوا مصلحت کا شکار، حافظ آباد کے بااثر پٹواری کے سامنے قانون بے بس؟
انصاف کا تقاضا یا بااثر کی لونڈی؟ مقتولین کے ورثاء کی دہائی، کیا گوجرخان میں قانون کی رٹ صرف غریب کے لیے ہے؟ وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیل
گوجرخان(قمرشہزاد)گوجرخان کے قلب ریلوے روڈ پر دن دیہاڑے دو تاجر بھائیوں کے بہیمانہ قتل کی لرزہ خیز واردات خون کی ہولی کھیلے ہوئے 14 دن گزرنے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بڑی پیش رفت میں ناکام نظر آتے ہیں۔ مقتول کے کمسن بیٹے نے سرِعام نصیر پٹواری کے بیٹوں معظم اور احسن کو اپنے والد اور چچا کا قاتل نامزد کیا، ایف آئی آر درج ہوئی، لیکن پولیس اور سی سی ڈی حکام کی جانب سے تاحال ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی آفیشل بیان سامنے نہ آنا کئی شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ گوجرخان شہر، جو کہنے کو تو سماجی تنظیموں، صدور اور نام نہاد عوامی نمائندوں سے بھرا پڑا ہے، اس وقت ایک مجرمانہ خاموشی کی لپیٹ میں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کے والد نصیر پٹواری کے سیاسی و انتظامی حلقوں میں گہرے مراسم انصاف کی راہ میں سب سے بڑی دیوار بن چکے ہیں۔ ہر گلی محلے میں مصلحت کی چادر اوڑھ کر بیٹھنے والے سیاسی نمائندے اور سماج سیوک مقتولین کے لہو پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس سے یہ تاثر قوی ہو رہا ہے کہ حافظ آباد کے یہ ملزمان قانون سے بالاتر ہیں۔
عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے گردش کر رہا ہے کہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں سنگین وارداتوں کے ملزمان چند ہی دنوں میں اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں، تو کیا گوجرخان کیس کے ملزمان کو کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے؟ کیا سی سی ڈی اور مقامی پولیس اس کیس کو سرد خانے کی نذر کرنے کے لیے فائل پر مٹی ڈالنے کی منتظر ہے؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ کیس گوجرخان پولیس اور بالخصوص سی سی ڈی کے لیے ایک کڑا امتحان ہے کہ آیا وہ اپنی پیشہ ورانہ ساکھ بحال کرتے ہیں یا قانون ایک بار پھر بااثر طبقات کے گھر کی لونڈی ثابت ہوگا۔ اہلیانِ گوجرخان نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے سختی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر ملزمان کو نشانِ عبرت بنایا جائے، ورنہ یہ خاموشی کسی بڑے عوامی لاوے کے پھٹنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
