"جو ووٹ کی خاطر گلیوں میں دستک دینے آتے ہیں
وہ پیاسی عوام کو سسکتا چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں
سرکاری پائپوں سے اب پانی نہیں، بیماری بہتی ہے
یہ کیسے حکمران ہیں جو عوام کو صاف پانی تک نہیں دے پاتے..!۔”
ایک لاکھ سے زائد کی آبادی پر مشتمل تحصیل کا درجہ رکھنے والا شہرِ چونیاں جو ایک پرانی تاریخ کا حامل قدیمی شہر ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پورا شہر آج پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ترین انسانی ضرورت سے بھی محروم ہو چکا ہے۔ جہاں دیگر ممالک میں صاف پانی کی فراہمی ریاست کی پہلی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، وہی پاکستان میں شہری آج بھی کئی شہروں اور دیہات میں اس نعمت سے محروم ہیں۔ چونیاں، الہ آباد، کنگن پور اور چھانگا مانگا کے عوام کے لیے یہ بنیادی انسانی ضرورت ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ چونیاں شہر کا زیرِ زمین پانی قدرتی طور پر کھارا یعنی نمکین ہے، جس کا واحد حل واٹر فلٹریشن پلانٹس یا منظم واٹر سپلائی سسٹم تھا۔ مگر افسوس! یہاں فلٹریشن پلانٹس نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو گنتی کے چند فلٹریشن پلانٹس موجود ہیں، وہ انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ رہی سہی کسر واٹر سپلائی کے ناقص نظام نے پوری کر دی ہے، چونیاں شہر میں بچھائی گیی واٹر سپلائی کی پائپ لائنیں جگہ جگہ سے لیک ہو چکی ہیں۔ نالیوں کا گندا اور بدبودار پانی ان لیکجز کے ذریعے واٹر سپلائی لائنوں میں شامل ہو کر شہریوں کے گھروں تک پہنچ رہا ہے۔ شہری اس گندے اور زہر آلود پانی کو پینے پر مجبور ہیں اور جو لوگ یہ پانی پی رہے ہیں، وہ ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، گردوں اور معدے جیسی دیگر موذی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ کیونکہ میڈیکل سائنس کے مطابق آدھی سے زیادہ انسانی بیماریوں کی جڑ آلودہ پانی کا استعمال ہے، اور چونیاں کی عوام کو دانستہ طور پر اس دلدل میں سرعام بے فکر ہو کر دھکیلا جا رہا ہے۔
اس مجرمانہ غفلت کے اصل ذمہ دار وہ عوامی نمائندے، اسمبلی ممبرز اور سول سوسائٹی کے نام نہاد لیڈران ہیں جو الیکشن کے دنوں میں چونیاں، الہ آباد، چھانگامانگا اور کنگن پور کی گلیوں میں ووٹ کی بھیک مانگنے آتے ہیں۔ چاہے کسی بھی سیاسی جماعت کا ایم این اے (MNA) ہو یا ایم پی اے (MPA)، ووٹ لے کر اسمبلی کے ایوانوں تک پہنچنے کے بعد ان سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ انہوں نے آج تک چونیاں کی پیاسی عوام کے اس سنگین مسئلے پر اسمبلی کے فلور پر آواز اٹھانا تو دور، کبھی مقامی سطح پر بھی اس کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ ان عوامی نمائندوں کی ترجیحات میں عوام کی صحت نہیں، بلکہ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات ہیں۔ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کی حالت یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر اسسٹنٹ کمشنر اور میونسیپل کمیٹی کے افسران تک، سب ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ شہریوں اس مسلئے پر ہونے ولے متعدد احتجاج، سوشل میڈیا پر اٹھتی آوازیں اور میڈیا رپورٹس ان خاموش تماشائیوں کو جگانے میں ناکام رہی ہیں۔ عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے اور مٹھی بھر بیوروکریسی پورے علاقے کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔
جب ایک لاکھ سے زائد آبادی والا مرکزی شہر چونیاں اس بنیادی ترین سہولت کے حق سے محروم ہے، تو الہ آباد، کنگن پور، چھانگا مانگا اور ان سے ملحقہ سینکڑوں دیہاتوں کا تو کوئی نام لینے والا ہی نہیں ہے۔ ان دیہی علاقوں اور قصبوں میں رہنے والے لاکھوں انسانوں کو تو شاید حکومت انسان ہی نہیں سمجھتی۔ وہاں کے لوگ آج بھی دور دراز سے پانی بھر کر لانے پر مجبور ہیں یا پھر زیادہ ٹی ڈی ایس کا حامل گندا پانی پی کر اپنے بچوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ اگر ہم عالمی سطح پر ترقی کا جائزہ لیں تو دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں بھی پینے کا صاف پانی ریاست بلا معاوضہ فراہم کرتی ہے۔ لیکن پاکستان میں جدید دور کے دعووں کے باوجود، پاکستان بھر میں زیر زمین پانی ہونے کے باوجود تمام شہر پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں۔ یہ اس نظام کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ آخر اس بدترین مسئلے کا ذمہ دار کون ہے؟ کس نے اس مسئلے کو حل کرنا ہے اور کب تک چونیاں اور اس کے گردونواح کے لوگ یہ زہر پی کر بیمار ہوتے رہیں گے؟ اگر عوام اپنے کسی بھی حق تلفی پر روڈ بلاک یا احتجاج کرے تو ان پر ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہیں۔ اور ریاست اپنی ذمہ داریاں بھول چکی ہے تو عوام جائے تو کہاں جائے۔
چونیاں شہر کا پانی تو مکمل طور پر کھارا یعنی نمکین ہونے کی بنا پر پینے لائق ہی نہیں۔ لیکن تحصیل بھر کے شہروں اور متعدد گاؤں دیہات میں جا کر جب ٹی ڈی ایس میٹر سے پانی چیک کیا گیا تو وہاں بھی پانی کے ٹی ڈی ایس 400 سے 600 تک آ رہے ہیں، جو انسانی جانوں کے لیے نقصان دہ پانی ہے۔ چونیاں تحصیل بھرکی تقریباً 9 لاکھ سے زائد لوگوں پر مشتمل آبادی آج صاف پانی جیسی عظیم نعمت سے مزید محروم ہوتی جا رہی ہے۔
شہریوں نے نہ صرف حکومتِ پاکستان سے بلکہ عالمی اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے وہ یہاں اپنی ٹیمیں بھیجیں اور پانی چیک کریں۔ انہوں نے خاص طور پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور یونیسف (UNICEF) جیسی بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چونیاں میں پینے کے پانی کے اس سنگین انسانی بحران کا نوٹس لیں۔ ان عالمی اداروں کو یہاں آ کر پانی کے نمونے ٹیسٹ کرنے چاہئیں تاکہ دنیا دیکھے کہ کیسے شہریوں کو بنیادی حق سے محروم کر کے "سلو پوائزن” پلایا جا رہا ہے۔ حکومتِ پنجاب، وزیرِ اعلیٰ مریم نواز اور سیکرٹری پبلک ہیلتھ سے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چونیاں کی واٹر سپلائی لائنوں کو ہنگامی بنیادوں پر تبدیل کیا جائے، بند فلٹریشن پلانٹس کو چالو کر کے مزید نئے پلانٹس لگائے جائیں اور الہ آباد، کنگن پور اور چھانگا مانگا کے لیے بھی فوری طور پر کلین واٹر اسکیمیں شروع کی جائیں۔ اگر پبلک ہیلتھ اور مقامی انتظامیہ یہ بنیادی ترقیاتی کام نہیں کر سکتی، تو تحصیل اور ضلعی لیول پر تعینات تمام ناکارہ عملے کو فارغ کیا جائے تاکہ عوام کا پیسہ ان افسران کی عیاشیوں اور تنخواہوں پر ضائع ہونے کے بجائے مقامی واٹر اسکیموں پر لگے۔ چونیاں کے شہریوں کو صاف پانی فراہم کر کے ان کی زندگیوں کو بچانا اب ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، پانی کی فراہمی نہ صرف ریاست کی ذمہ داری ہے بلکہ ہر شہری کی بنیادی ضرورت اور حق ہے۔ عوام سے ان کا کوئی بھی حق چھیننا یا فراہم نہ کرنا ریاست کو ظالم بناتا ہے۔
