Baaghi TV

‎ تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:شفق عابد

‎آج کے دور میں تمباکو نوشی ایک خطرناک عادت بنتی جا رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ سگریٹ، گٹکا، نسوار اور شیشہ استعمال کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے شوق سمجھتے ہیں جبکہ کچھ لوگ دوستوں کی صحبت یا ذہنی پریشانی کی وجہ سے اس عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمباکو نوشی انسان کی صحت، گھر اور پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی لیے ہمیں ایک ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جو تمباکو سے پاک ہو۔

‎تمباکو نوشی سب سے زیادہ انسانی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں ایسے زہریلے مادے موجود ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں اور دل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ مسلسل تمباکو استعمال کرنے والے افراد کو سانس کی تکلیف، کھانسی، دل کی بیماری اور کینسر جیسے خطرناک امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف سگریٹ پینے والا ہی متاثر ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اردگرد بیٹھے لوگ بھی دھوئیں سے نقصان اٹھاتے ہیں۔ خاص طور پر بچے اور بوڑھے اس سے جلد متاثر ہوتے ہیں۔

‎پاکستان میں نوجوان نسل تیزی سے اس بری عادت کا شکار ہو رہی ہے۔ اکثر نوجوان صرف فیشن یا دوستوں کی نقل میں سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں۔ شروع میں وہ اسے معمولی چیز سمجھتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہ عادت بن جاتی ہے۔ بعد میں اسے چھوڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ کی تعلیم اور صحت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ ایک صحت مند نوجوان ہی ملک کا روشن مستقبل بن سکتا ہے، اس لیے نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے بچانا بہت ضروری ہے۔

‎تمباکو نوشی صرف صحت ہی نہیں بلکہ پیسے کا بھی ضیاع ہے۔ بہت سے لوگ روزانہ سگریٹ پر بڑی رقم خرچ کرتے ہیں۔ اگر یہی پیسہ تعلیم، خوراک یا کسی اچھے کام پر لگایا جائے تو انسان اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔ غریب لوگ جب تمباکو پر پیسہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے گھر کے دوسرے اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔ اس طرح پورا خاندان مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔

‎تمباکو نوشی کے خلاف مہم چلانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر سخت پابندی لگائے۔ اسکولوں اور کالجوں کے قریب سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ سگریٹ کے اشتہارات کم کیے جائیں تاکہ نوجوان اس کی طرف راغب نہ ہوں۔

‎والدین اور اساتذہ بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں اچھی صحبت اختیار کرنے کی نصیحت کریں۔ اساتذہ کو اسکول میں طلبہ کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔ اگر بچپن سے ہی بچوں کو اس کے برے اثرات بتائے جائیں تو وہ اس عادت سے دور رہ سکتے ہیں۔

‎میڈیا بھی لوگوں میں شعور پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر ایسے پروگرام دکھائے جانے چاہییں جو لوگوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں بتائیں۔ جب لوگ اس کے نقصان کو سمجھیں گے تو وہ خود بھی اس سے بچنے کی کوشش کریں گے۔

‎اسلام بھی ہمیں ان چیزوں سے بچنے کا حکم دیتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہوں۔ تمباکو نوشی چونکہ انسان کی جان اور صحت کو نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے۔ صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔

‎آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو پاکستان کو تمباکو سے پاک بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں خود بھی اس بری عادت سے بچنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس سے دور رہنے کا مشورہ دینا چاہیے۔ ایک صحت مند قوم ہی ترقی کر سکتی ہے۔ اگر ہمارا پاکستان تمباکو سے پاک ہوگا تو ہمارے نوجوان زیادہ صحت مند، خوشحال اور کامیاب ہوں گے۔

More posts