اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاور ڈویژن کے امور سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے وزیرِ توانائی سردار اویس لغاری، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، سیکریٹری پاور ڈویژن فخر عالم اور پاور سیکٹر ٹاسک فورس کی اصلاحاتی اقدامات اور تقسیم کار کمپنیوں کی بہتر کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ شعبے میں مزید بہتری کے لیے مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ بجلی چوری کے مکمل خاتمے کے لیے ہر سطح پر سخت اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بلنگ سسٹم کا تکنیکی آڈٹ کرانے، کارکردگی جانچنے کے لیے واضح اشاریے (پرفارمنس انڈیکیٹرز) تیار کرنے اور مقررہ مدت کے ساتھ اہداف مقرر کرنے کی بھی ہدایت دی۔
شہباز شریف نے کہا کہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی بجلی تقسیم کار کمپنی کو حکومتی سطح پر سراہا جائے گا۔ انہوں نے دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے مؤثر حل کے لیے گاؤں کی سطح پر سولرائزیشن منصوبے تیار کرنے کی بھی ہدایت جاری کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی اور تجارتی نقصانات میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اسلام آباد، لاہور اور گوجرانوالہ کی تقسیم کار کمپنیوں نے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات کے حوالے سے بہترین کارکردگی دکھائی، جبکہ اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان کی کمپنیوں نے 100 فیصد ریکوری کا ہدف حاصل کیا۔
بریفنگ کے مطابق بجلی چوری کی روک تھام، ریکوری بہتر بنانے اور تکنیکی مسائل کے حل کے لیے حیدرآباد، سکھر، لاہور، ملتان اور ہزارہ کی تقسیم کار کمپنیوں میں ڈسکو سپورٹ یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں۔ ٹرانسفارمر کی سطح پر اثاثہ کارکردگی انتظامی نظام (Asset Performance Management System) کے پہلے مرحلے کی تکمیل 30 ستمبر 2026 تک متوقع ہے، جبکہ اس نظام سے منسلک جدید ٹرانسفارمرز کی تنصیب سے بجلی چوری اور لوڈشیڈنگ میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملتان، لاہور، پشاور، ہزارہ اور کوئٹہ کے علاقوں میں ایک کروڑ 62 لاکھ سنگل فیز اے ایم آئی اسمارٹ میٹرز نصب کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
وزیراعظم کا بجلی چوری کے مکمل خاتمے اور اسمارٹ میٹرز کی تنصیب تیز کرنے کا حکم
