اللہ تبارک تعالی’ سب کا خالق ، مالک ، رازق ہے. یوں تو اس کی ساری مخلوقات خوب صورت اور پیاری ہیں لیکن اشرف المخلوقات انسان کی تو بات ہی کچھ اور ہے.”بیشک یقینا”ہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا ۔”
یہی انسان اپنی منفی سوچ ، بد اعمالیوں اور عادات بد کی وجہ سے اسفل سافلین کے گڑھے میں جاگرتا ہے.عادات بد میں سب سے بری عادت سگریٹ نوشی کی عادت ہے.بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کی آبادی کا قابل ذکر حصہ اس عادت بد میں مبتلا ہے.امراء میں اس کا تناسب کم ہے اور امیر عورتوں میں تو نہ ہونے کے برابرجبکہ سگریٹ نوشی کی عادت بد میں مبتلا زیادہ تر افراد کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے. ان میں عورتوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے.
جیب میں نہیں دھیلہ
کرنے چلی میلہ میلہ
کھانے کو دانے ہوں نہ ہوں سگریٹ کی ڈبی ضرور لینی ہے یا پھر مانگ کر ہی پینی پڑے، پینی ضرور ہے.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”بے شک اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے اور اس بات کو بھی پسند کرتا ہے کہ اپنے بندے پر اپنی نعمت (کا اثر) دیکھے اور وہ مصیبت اور محتاجی (دکھانے) سے نفرت کرتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1067]
لباس سے ،جسم سے ، رہائش سےمفلسی جھلک رہی ہو ، اسے رفع کرنے کی کوشش نہیں کرنی ہاں اس میں اضافہ کے لیے ، صورت حال کو گھمبیر بنانے کے لیے سگریٹ ضرور پینی ہے.
لگے دم
مٹے غم
کہنے سے ، سگریٹ کے کش لگانے سے غم غلط نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں.سگریٹ نوشی اصل میں اپنے آپ کو دھوکہ دینا، اپنے آپ کو جھوٹی تسلی دینا ہے ،زندگی کی حقیقتوں سے فرار ہے جیسا کہ کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ بلی اسے نہیں دیکھ رہی.
یہ لوگ روٹی خریدنے کی بجائے بیماری خریدتے ہیں.
سگریٹ بیڑی حقہ پان
قاطع صحت جسم و جان
دنیا بھر میں ٹی بی (تپ دق)بہت کم ہو گئی ہے. ہمارے ہاں آج بھی امراض سینہ کے وارڈز بھرے پڑے ہیں ٹی بی کے مریضوں سے.ایک وقت تھا کہ ذرائع ابلاغ پر سگریٹ نوشی کے پرکشش اور ترغیب دلاتے اشتہارات کی بھرمار ہوتی تھی.
کے ٹو کا پاکستان سے لے کر
ولز اینڈ کرکٹ گو ٹوگیدر
Wills and cricket go together. تک
اللہ کا شکر سگریٹ کی تشہیر مرحلہ وار ختم ہوئی اور تمباکو سے پاک پاکستان کی طرف ایک نہایت مثبت قدم اٹھایا گیا.
پاکستان کو ، خصوصا” نسل نو کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ نہیں بیچی جائے لیکن ہمارے ہاں قانون بنتا ہی اس لیے کہ اسے توڑا جائے اب بیشتر سگریٹ فروشوں کی دکانوں پر ایک مخفی جگہ پر سٹیکر لگا ہوتا ہے جس پر سگریٹ پر سرخ لائن کے ساتھ 18 کا ہندسہ لکھا ہوتا ہے
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی.
چند جگہ پرلکھا ہوتا ہے
ہم 18 سال سے کم عمر پچے کو سگریٹ فروخت نہیں کرتے.لیکن کرتے ہیں.عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کہنے سننے کی حد تک ممنوع ہے حقیقت میں تو ہر جگہ ڈنکے کی چوٹ پر کی جارہی ہے.تمباکو سے پاک پاکستان کے لیے ان قوانین پر عمل درآمد کرانا قانون نافذ کرانے والے اداروں کی ذمہ داری ہے.
پی ٹی وی کے مزاحیہ پروگرام ففٹی ففٹی میں ایک خاکے کے ذریعہ سمجھایا گیا کہ تمباکو نوشی ہے خود کشی کا آسان طریقہ.ایک اشتہار میں معروف کرکٹر وسیم اکرم بڑے میدان کے چکر پر چکر لگاتے نظر آتے ہیں. دو نو عمر لڑکے انہیں دیکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں”وسیم بھائی آپ تھکتے نہیں ہیں؟” جواب میں وسیم اکرم کہتے ہیں ” میں سگریٹ نہیں پیتا”سگریٹ وہ سفید چھڑی ہے جس کے ایک سرے پر آگ اور دوسرے پر بے وقوف ہوتا ہے.اس طرح کے خاکوں، اشتہارات اور مقولوں کے ذریعہ تمباکو نوشی کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جاسکتی
ہے.
تمباکو نوشی دیگر نشوں کی ابتدائی سیڑھی ثابت ہوتی ہے اور غلط و غلیظ چیزوں کے استعمال سے قبل ہونے والی جھجک کون ختم کردیتی ہے.تمباکو سے پاک پاکستان نسل نو کو منشیات کے چنگل میں پھنسنے سے روکے گا.
اکثر سگریٹ نوش حضرات کا کہنا ہے بلکہ پختہ یقین ہے کہچھٹتی نہیں ہے کافر منہ کو لگی ہوئی ،لیکن اگرکوئیرشتہ دار نقصان پہنچائے تو اس سے رشتہ داری ختم کردیتے ہیں. سگریٹ سے تعلق کیوں ختم نہیں کرتے
جبکہ یہ جان ،مال، عزت ، آبرو سب کا نقصان کیا کباڑہ کردیتی ہے.
عقل مند اور بے وقوف دونوں عشق میں مبتلا ہو جائیں ٹو ان میں کوئی فرق نہیں رہتا.ان پڑھ اور پڑھا لکھا دونوں تمباکو نوشی کریں تو پڑھا لکھا زیادہ قابل نفرین ہے.
سگریٹ ساز اور سگریٹ فروش ایک سکیم متعارف کراتے ہیں کہ اتنی خالی ڈبی واپس دے کر بھری ڈبی حآصل کریں تمباکو نوش اس لالچ میں زیادہ سے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ تیز چلو گے جلد مروگے،تیز رفتاری موت انجام،تمباکو سے پاک پاکستان کے لیے حکومت ایسی تمام سکیموں پر پابندی لگائے.
