اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق جس علاقے میں کارروائی کا حکم دیا گیا ہے وہ "ضاحیہ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ علاقہ لبنان میں حزب اللہ کا ایک اہم مرکز تصور کیا جاتا ہے اور ماضی میں بھی متعدد بار اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔
نیتن یاہو کے اس فیصلے نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس اقدام سے خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب سرحدی علاقوں میں پہلے ہی کشیدگی برقرار ہے۔
دوسری جانب لبنان کے صدر نے اسرائیلی حملوں اور فوجی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں لبنان کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ لبنانی قیادت نے عالمی برادری سے فوری مداخلت اور اسرائیلی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
علاقائی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور ممکنہ سفارتی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں مختلف رکن ممالک خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے اور کشیدگی میں کمی کے لیے تجاویز پیش کر سکتے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے فریقین پر تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف لبنان اور اسرائیل بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا امتحان بن سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔
نیتن یاہو کے بیروت پر حملے، سلامتی کونسل کا اجلاس طلب
