کویت نے ایران کے حالیہ ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد سخت سفارتی اقدام اٹھاتے ہوئے دو ایرانی سفارتکاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے دیا ہے۔ کویتی حکومت نے دونوں سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
کویت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی سفارتخانے کے قائم مقام ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہیں ایک باضابطہ احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ اس مراسلے میں ایران کے حالیہ اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور سفارتخانے کے سفارتی عملے میں کمی کرنے کے فیصلے سے بھی آگاہ کیا گیا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق جن دو ایرانی سفارتکاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا ہے، انہیں فوری طور پر کویت چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قومی سلامتی اور خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
بیان میں ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ کویتی حکومت نے واضح کیا کہ ملک کو اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
کویت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کا احترام تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے تاکہ امن اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کویت کا یہ اقدام خلیجی ممالک کی جانب سے سکیورٹی معاملات پر بڑھتی ہوئی حساسیت کی عکاسی کرتا ہے۔ حالیہ علاقائی صورتحال کے باعث متعدد ممالک اپنی دفاعی اور سفارتی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔
کویت نے دو ایرانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا
