روزنامہ نوائے وقت پاکستان کی صحافتی تاریخ کا ایک معتبر اور درخشاں باب ہے، جو دو قومی نظریے کے فروغ اور قومی تشخص کے تحفظ کا علمبردار ہے،نوائے وقت اخبار مظلوم کشمیریوں کی آواز بن کر ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو اجاگر کرتا ہے۔ وطنِ عزیز کے خلاف سازشوں اور ملک دشمن عناصر کے مقابلے میں نوائے وقت ہمیشہ جرأت و استقامت کے ساتھ صف آرا رہا ہے، اس کے صفحات پر شائع ہونے والی تحریریں حب الوطنی، قومی غیرت اور پاکستان سے والہانہ محبت کی روشن ترجمانی کرتی ہیں،نوائے وقت کے چیف نیوز ایڈیٹر،ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیئرمین،سینئر صحافی دلاور چودھری ایک ایسا معتبر اور روشن نام ہیں جنہوں نے اپنے قلم کو شعور، فکر اور آگہی کی شمع بنا رکھا ہے، ان کی تازہ تصنیف "خواب لیے پھرتا ہوں” کا پہلا ایڈیشن منظرِ عام پر آ چکا ہے، جو دراصل ان کی فکری ریاضت، علمی جستجو اور صحافتی تجربات کا نچوڑ ہے،کتاب کا انتساب انہوں نے اپنے والدین کے نام کیا ہے، جو ان کی شخصیت کے جذباتی اور روحانی پہلو کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ دلاور چودھری لکھتے ہیں کہ وہ بیس برس کی عمر میں کان پر قلم رکھ کر صحافت کے خارزار میں اترے تھے۔ تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ان کی "صحافتی آوارہ گردی” کا سفر جاری ہے؛ وہ آج بھی نگری نگری پھرتے ہیں، علم و آگہی کی تلاش میں ہر اجنبی سے گویا گھر کا پتہ پوچھتے ہیں۔ان کے بقول صحافت ان کا پیشہ ہے مگر کتاب ان کا عشق، یہی عشق ان کے کالموں میں پوری آب و تاب کے ساتھ جھلکتا ہے۔
"خواب لیے پھرتا ہوں” میں شامل 83 کالم ایک حساس اور بیدار ذہن کے وہ خواب ہیں جو جاگتی آنکھوں سے دیکھے گئے۔ ان صفحات میں بے شمار کتابوں کا تعارف سمویا گیا ہے، حتیٰ کہ اگر ان تمام کتابوں کو یکجا کر دیا جائے تو ایک معیاری لائبریری وجود میں آ سکتی ہے، ان میں متعدد ایسی نایاب تصانیف بھی شامل ہیں جو پاکستان میں آسانی سے دستیاب نہیں،دلاور چودھری کی کتاب خواب لیے پھرتا ہوں پر ملک کی نامور علمی و صحافتی شخصیات نے اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔ سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی کے مطابق دلاور چودھری کے کالم معنویت، گہرائی اور تحقیقی بصیرت کے اعتبار سے منفرد ہیں۔ وہ سطحی گفتگو کے بجائے تاریخ، جغرافیہ اور عالمی سیاست کے پس منظر میں مسائل کا جائزہ لیتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے نزدیک ان کی تحریروں میں بین الاقوامی دانش کی جھلک نمایاں ہے اور وہ دنیا کے تجربات سے سیکھ کر معاشرتی مسائل کے حل کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔
سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ نے اس کتاب کو فقر، درویشی اور انکساری کا پیغام قرار دیا ہے، جبکہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) سید احمد ندیم قادری (تمغۂ امتیاز) کے مطابق دلاور چودھری کے کالم نوجوان نسل میں مطالعے اور کتب بینی کا شوق بیدار کرتے ہیں۔ سینئر صحافی وکالم نگار،نوائے وقت کے ایڈیٹوریل ہیڈ ادیب سعید آسی نے انہیں تاریخ و ادب کا انسائیکلوپیڈیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے کالم مستند حوالوں اور وسیع المطالعگی کا شاہکار ہیں، قیوم نظامی، راؤ منظر حیات، حاجی محمد نواز رضا اور علامہ عبدالستار عاصم نے بھی کتاب کی فکری و ادبی اہمیت کو سراہا ہے۔
دلاور چودھری سے جب بھی ملاقات ہو، علم و محبت کی محفل چائے کی خوشبو کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ ان کی گفتگو میں کتابوں کی مہک، تاریخ کی گہرائی اور انسان دوستی کی حرارت محسوس کی جا سکتی ہے۔ وہ علم، تحقیق اور مطالعے کی ایک چلتی پھرتی درسگاہ ہیں،اپنے گھر میں بنائی گئی لائبریری کے دورےکی دعوت بارہا مل چکی اب اسے بھی قبول کرنے کا وقت آ گیا ہے،کتاب قلم فاؤنڈیشن نے شائع کی ہے، قیمت 2500 روپے درج ہے تاہم رعایتی قیمت 1500 روپے ہے،

