Baaghi TV


ہائی کورٹ نے ٹریڈ افسران کی تعیناتی روکنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

islamabad highcourt

اسلام آباد ہائیکورٹ نے انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کی بیرون ملک تعیناتی روکنے کے حکومتی فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 10 افسران کی درخواستیں منظور کر لی ہیں۔ عدالت نے وزیر اعظم کی منظوری سے دوبارہ اشتہار جاری کرنے کے عمل کو بھی غیر قانونی قرار دیا ہے۔
‎جسٹس انعام امین منہاس نے 26 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ حکومت اور وزارت تجارت عدالت کو یہ بتانے میں ناکام رہے کہ انٹیلی جنس رپورٹ میں ایسا کیا مواد موجود تھا جس کی بنیاد پر افسران کو "ناٹ سوٹ ایبل” قرار دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی انتظامی فیصلے کے لیے ٹھوس شواہد اور معقول وجوہات کا ہونا ضروری ہے، بصورت دیگر ایسا فیصلہ من مانی تصور کیا جاتا ہے۔
‎عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری افسران کے خلاف کسی انٹیلی جنس رپورٹ کو ان کا مؤقف سنے بغیر استعمال کرنا قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔ وزارت تجارت کے حکام نے بھی تسلیم کیا کہ انہوں نے رپورٹ کا مکمل جائزہ نہیں لیا اور صرف ایک غیر واضح سفارش کی بنیاد پر سیکیورٹی کلیئرنس روک دی۔
‎فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ عدالت پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرتی ہے، تاہم اس کیس میں درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ عدالت کے مطابق وزارت تجارت کو متعدد بار ہدایت کی گئی کہ مبینہ رپورٹ کا مواد پیش کیا جائے یا افسران کو وضاحت کا موقع دیا جائے، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
‎عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ انٹیلی جنس رپورٹ کو خفیہ قرار دینے سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن یا قانونی دستاویز بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔ مزید برآں، درخواست گزاروں کے خلاف کسی قسم کا منفی مواد یا شواہد بھی ریکارڈ پر نہیں لائے گئے۔
‎فیصلے میں کہا گیا کہ متعلقہ افسران تمام تحریری امتحانات اور انٹرویوز کامیابی سے مکمل کر کے 28 کامیاب امیدواروں کی میرٹ لسٹ میں شامل ہوئے تھے۔ ان میں سے 18 افسران کو بیرون ملک تعینات کر دیا گیا جبکہ 10 افسران کو الگ کر کے ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا، جو آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مساوی سلوک کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔
‎اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت تجارت کو ہدایت کی ہے کہ درخواست گزار افسران کو تعیناتی کے خطوط جاری کیے جائیں اور 30 دن کے اندر تمام انتظامی کارروائیاں مکمل کر کے انہیں بیرون ملک پاکستانی تجارتی مشنز میں ذمہ داریاں سنبھالنے کی اجازت دی جائے۔

More posts