Baaghi TV

سائز آر چھاتی کے باعث فضائی سفر مہنگا پڑ گیا

airline

اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک ماڈل نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر معمولی طور پر بڑی چھاتی کے باعث انہیں فضائی سفر کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ گزشتہ چند برسوں میں 50 ہزار ڈالر سے زائد رقم صرف بزنس کلاس ٹکٹوں پر خرچ کر چکی ہیں۔

28 سالہ سمر رابرٹ، جو آن لائن مواد تخلیق کرنے والی ماڈل کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی چھاتی کا سائز "آر” ہے اور وزن تقریباً 55 پاؤنڈ کے برابر ہے، جس کے باعث اکانومی کلاس میں سفر کرنا ان کے لیے تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔سمر رابرٹ کے مطابق فضائی کمپنیوں کے موجودہ نشستوں کے ڈیزائن ایسے مسافروں کی ضروریات کو مدنظر نہیں رکھتے جن کے جسمانی خدوخال عام معیار سے مختلف ہوں۔ انہوں نے اس صورتحال کو "بوب ٹیکس” (Boob Tax) قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں صرف آرام دہ سفر کے لیے اضافی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔رابرٹ کا کہنا ہے کہ طویل دورانیے کی پروازوں میں انہیں سب سے زیادہ مسئلہ نشست کی محدود جگہ کی وجہ سے پیش آتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اکانومی کلاس میں بیٹھنے کے دوران اکثر ان کی چھاتی ساتھ بیٹھے مسافر کی جگہ میں آجاتی ہے، جس سے دونوں افراد کے لیے غیر آرام دہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ان کے مطابق "لمبی پروازوں میں آرام سے بیٹھنا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اکثر میرے ساتھ بیٹھا مسافر غیر ارادی طور پر میری چھاتی سے ٹکرا جاتا ہے، جس سے ہم دونوں کو تکلیف اور شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔”سمر رابرٹ نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں انہوں نے امریکی شہر لاس اینجلس سے آسٹریلیا کے شہر میلبورن تک 16 گھنٹے طویل ایک طرفہ پرواز کے لیے 14 ہزار 686 ڈالر ادا کیے تاکہ وہ بزنس کلاس میں سفر کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ اکانومی کلاس میں جگہ کی کمی کے باعث وہ نہ تو آرام سے بیٹھ سکتی ہیں اور نہ ہی کھانا کھا سکتی ہیں۔

انہوں نے شکایت کرتے ہوئے کہا "ٹری ٹیبل مکمل طور پر نیچے نہیں آتی، جس کی وجہ سے کھانا کھانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر میں بزنس کلاس نہ لوں تو یا تو میں کھانا نہیں کھا سکتی یا پھر مسلسل دوسرے مسافروں کے ساتھ جسمانی ٹکراؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”

رپورٹ کے مطابق سمر رابرٹ میکروماسٹیا نامی ایک نایاب طبی حالت کا شکار ہیں۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں چھاتی غیر معمولی اور مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق یہ بیماری دنیا بھر میں بہت کم افراد کو متاثر کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں جسمانی درد، کمر اور گردن کے مسائل، جلدی پیچیدگیاں اور نفسیاتی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔رابرٹ کا کہنا ہے کہ ان کے سینے پر اضافی وزن ہونے کی وجہ سے انہیں شدید گرمی محسوس ہوتی ہے، جبکہ ہجوم والی پروازوں میں یہ دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے ایک حالیہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ چند ہفتے قبل گرم چائے ان کی چھاتی پر گر گئی تھی جس کے باعث انہیں شدید جلنے کے زخم آئے۔”میں نے ابلتی ہوئی چائے اپنے اوپر گرا لی تھی، جس سے میری چھاتی بری طرح جل گئی۔ ابھی بھی اس کے نشانات موجود ہیں۔”

سمر رابرٹ کا کہنا ہے کہ فضائی سفر کے دوران انہیں نہ صرف مالی بوجھ بلکہ سماجی دباؤ اور غیر مناسب رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض اوقات ہوائی اڈوں اور پروازوں کے عملے کی جانب سے بھی انہیں غیر ضروری توجہ اور تبصروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے سفر مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا”لوگ سمجھتے ہیں کہ بڑی چھاتی کے ساتھ زندگی صرف شہرت اور دلکشی کا نام ہے، لیکن اس کے ساتھ بہت سی مشکلات بھی جڑی ہوئی ہیں۔ میں اپنے جسم سے محبت کرتی ہوں، مگر اس کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں جن کے بارے میں لوگ نہیں جانتے۔”

سمر رابرٹ کے بیانات کے بعد ایک بار پھر فضائی صنعت میں بڑی جسامت یا خصوصی جسمانی ضروریات رکھنے والے مسافروں کے لیے نشستوں اور سہولیات کے معیار پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید فضائی سفر میں نشستوں کی جگہ مسلسل کم ہونے کے باعث نہ صرف زائد الوزن افراد بلکہ مختلف جسمانی حالات کے حامل مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے لیے مستقبل میں زیادہ جامع اور قابلِ رسائی سفری سہولیات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

More posts