بھارت کی ایک عدالت نے 35 سال پرانے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے 85 سالہ ملزم دیپ رائے کو تین سال قید اور 25 ہزار بھارتی روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے دیپ رائے کو قتل اور آرمز ایکٹ کی خلاف ورزی کے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا۔ عدالت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کے بعد ضعیف ملزم کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں انہیں سکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔وائرل ویڈیو میں ملزم کی کمر جھکی ہوئی نظر آتی ہے جبکہ وہ انتہائی دشواری کے ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں، جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ دیپ رائے کی عمر اور جسمانی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا میں نرمی کی جائے۔ عدالت نے اس درخواست کو جزوی طور پر قبول کرتے ہوئے نسبتاً کم مدت کی سزا سنائی،عدالت نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ ملزم کی عمر 85 سال ہے اور وہ جسمانی طور پر شدید کمزوری اور معذوری کا شکار ہیں۔ عدالت کے مطابق یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ جیل میں سخت سزا برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، تاہم قانون کے تقاضوں کے مطابق جرم پر سزا دینا بھی ضروری تھا۔
عدالت نے مزید کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملزم کو کم سزا دی گئی، تاہم انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے سزا کا نفاذ ناگزیر تھا۔ فیصلے کے بعد یہ مقدمہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ جرم کے وقوع پذیر ہونے اور سزا سنائے جانے کے درمیان تقریباً 35 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔
