نائجیریا کی سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے شمال مشرقی ریاست بورنو میں اغوا کاروں کے قبضے سے 360 مردوں، خواتین اور بچوں کو بازیاب کرا لیا ہے۔ فوج کے مطابق یہ کامیاب آپریشن خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا، جس کے دوران مغویوں کو ایک پہاڑی ٹھکانے سے آزاد کرایا گیا۔
نائجیریا کی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ مغوی افراد کو مندارا پہاڑی سلسلے کے ایک دور دراز علاقے میں قید رکھا گیا تھا۔ یہ علاقہ ریاست بورنو کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔
فوج کے مطابق مغویوں کو جماعۃ اہل السنہ للدعوۃ والجہاد (جے اے ایس) نامی گروہ نے مختلف علاقوں سے اغوا کیا تھا۔ جے اے ایس دراصل بوکو حرام کے مرکزی دھڑے کا عربی نام ہے، جو کئی برسوں سے نائجیریا اور پڑوسی ممالک میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
بازیابی کی کارروائی مشترکہ ٹاسک فورس نے انجام دی، جس میں خصوصی فورسز بھی شامل تھیں۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کے دباؤ کے باعث شدت پسند جنگجو اپنے ٹھکانے چھوڑ کر فرار ہو گئے، جس کے بعد مغویوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
فوجی حکام کے مطابق قید کے دوران دو بچے شدید تھکن، غذائی قلت اور سخت موسمی حالات کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ حکام نے بتایا کہ باقی مغویوں کو طبی امداد، خوراک اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
نائجیریا گزشتہ کئی برسوں سے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں اغوا برائے تاوان، شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں، کسانوں اور چرواہوں کے تنازعات اور مسلح گروہوں کی کارروائیاں حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور اغوا کی وارداتیں آئندہ صدارتی انتخابات میں اہم سیاسی موضوعات میں شامل ہوں گی۔ عوام کی بڑی تعداد حکومت سے مؤثر سیکیورٹی اقدامات اور مسلح گروہوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
نائجیریا میں 360 مغوی افراد بازیاب، دو بچے جان کی بازی ہار گئے
