پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے معروف صحافی محسن بیگ کے ایک متنازع بیان کی نشریات پر نجی ٹی وی چینل کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ایک پروگرام میں نشر ہونے والے تبصروں کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے متعلق بحث نے شدت اختیار کر لی۔
رپورٹس کے مطابق محسن بیگ نے پروگرام کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران "جسمانی اور ذہنی طور پر غیر حاضر” رہتے ہیں۔ انہوں نے ملک کو درپیش معاشی مسائل کو بھی وزیر خزانہ کی کارکردگی سے جوڑنے کی کوشش کی تھی۔
بیان نشر ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر وزیر خزانہ کے خلاف تنقیدی تبصروں اور مختلف آراء کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس کے بعد پیمرا نے معاملے کا نوٹس لیا۔ ریگولیٹری ادارے نے چینل سے وضاحت طلب کی ہے کہ متنازع مواد نشر کرنے پر اس کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے۔
پیمرا کے نوٹس میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا پروگرام میں نشر ہونے والے ریمارکس ادارے کے ضابطۂ اخلاق، ادارتی ذمہ داریوں اور نشریاتی اصولوں کے مطابق تھے یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تبصرے عید کی تعطیلات کے دوران نشر ہونے والے ایک پروگرام میں کیے گئے تھے۔
پاکستان کے میڈیا قوانین کے تحت پیمرا کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں شوکاز نوٹس جاری کرے، جرمانہ عائد کرے یا دیگر تادیبی اقدامات کرے۔ ادارہ ماضی میں بھی ذمہ دارانہ صحافت اور مؤثر ادارتی نگرانی کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔
دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب حالیہ دنوں میں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ٹیکس اصلاحات کا دفاع کرتے ہوئے متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ سیلاب، علاقائی کشیدگی اور دیگر چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے۔
محسن بیگ کے بیان پر پیمرا کا نجی ٹی وی چینل کو شوکاز نوٹس
