قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے آئندہ مالی سال کے لیے اہم معاشی اہداف اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ملکی معیشت کی سمت، ترقیاتی ترجیحات اور بجٹ حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کا مقصد صنعتی پیداوار، برآمدات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافہ کر کے معاشی ترقی کو تیز کرنا ہے۔
احسن اقبال کے مطابق ملک بھر کے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 669 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی گئی ہے۔ اس رقم میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی اخراجات شامل ہیں، جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے، توانائی، تعلیم، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کا ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ محدود مالی وسائل کے باعث فیصلہ کیا گیا ہے کہ داخلہ اور دفاع سے متعلق منصوبوں کے علاوہ کوئی نیا وفاقی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔ ترجیح جاری منصوبوں کی تکمیل اور اہم قومی منصوبوں کو دی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی عمل کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں وسائل کے مؤثر استعمال اور منصوبوں کی بروقت تکمیل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ قومی اقتصادی سروے کل پیش کیا جائے گا، جس میں رواں مالی سال کے دوران معیشت کی کارکردگی، مختلف شعبوں کی ترقی، محصولات، برآمدات، زرعی پیداوار اور دیگر معاشی اشاریوں کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق 4 فیصد شرح نمو کا ہدف حاصل کرنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا، تاہم ترقیاتی اخراجات، سرمایہ کاری اور معاشی اصلاحات کے ذریعے اس ہدف کے حصول کی کوشش کی جائے گی۔
این ای سی نے 4 فیصد معاشی ترقی کا ہدف منظور کر لیا
