Baaghi TV

حانیہ عد یل کے جاں بحق ہونے کے بعد سی سی ڈی سربراہ کا غلطی کا اعتراف

punjab

چکوال میں 10 جون کی رات پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے مقامی پولیس اور کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مسلسل چار گھنٹوں تک جاری رہنے والی ڈکیتی کی وارداتوں کے بعد ایک مبینہ پولیس فائرنگ میں 9 سالہ حانیہ عدیل جان کی بازی ہار گئی، جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔
‎رپورٹس کے مطابق دو مسلح ڈاکوؤں نے رات کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں کم از کم پانچ وارداتیں کیں۔ پہلی واردات کالج روڈ پر واقع ایک دکان پر ہوئی جہاں سیف سٹی کیمروں کی موجودگی کے باوجود ملزمان فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ بعد ازاں ڈاکو مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے رہے اور آخری واقعہ سی سی ڈی تھانے کے قریب پیش آیا۔
‎ذرائع کے مطابق اسی دوران سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے گاڑی میں موجود 9 سالہ حانیہ عدیل گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئی۔ واقعے میں اس کا والد عدیل احمد اور بھائی بھی زخمی ہوئے، جو تاحال زیر علاج ہیں۔
‎حانیہ کی ہلاکت کے مقدمے میں ابتدا میں دفعہ 322 شامل کی گئی تھی، جو غفلت یا لاپرواہی سے موت واقع ہونے سے متعلق ہے، تاہم بعد ازاں متاثرہ خاندان کے مطالبے پر مقدمے میں دفعہ 302 بھی شامل کر لی گئی، جو قتل کی دفعات میں شمار ہوتی ہے۔
‎واقعے کے بعد سی سی ڈی پنجاب کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ متاثرہ خاندان کے گھر پہنچے اور اہل خانہ سے تعزیت کی۔ انہوں نے ابتدائی طور پر ادارے کی جانب سے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے آپریشنل ایس او پیز مزید سخت کیے جائیں گے۔
‎متاثرہ خاندان اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اصل سوال صرف ایک اہلکار کی غلطی کا نہیں بلکہ پورے نظام کی کارکردگی کا ہے۔ ان کے مطابق اگر کروڑوں روپے مالیت کا سیف سٹی منصوبہ فعال تھا تو ڈاکو چار گھنٹے تک مختلف وارداتیں کیسے کرتے رہے؟ شہری یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کسی واضح تصدیق کے بغیر فائرنگ کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی۔
‎چکوال کے شہریوں نے امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حانیہ عدیل کے کیس میں شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے بھی ضروری ہے۔

More posts