Baaghi TV

آیت اللہ خامنہ ای، رهبرِ سترگِ انقلاب ،تحریر : پارس کیانی

یکم مارچ 2026ء کا دن معاصر تاریخ کے ان المناک اور فیصلہ کن ایام میں شمار کیا جائے گا جب ایرانی قیادت کا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا اور رہبرِ انقلاب آیت اللہ خامنہ ای جنگی حالات میں شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس خبر نے ایران ہی نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام میں ایک گہرا ارتعاش پیدا کیا۔

دُنیا کی بڑی خبر ایجنسیوں اور ذرائعِ ابلاغ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ‌ ای کی شہادت 28 فروری 2026ء (ہفتہ) کو ہوئی تھی، جبکہ 1 مارچ 2026ء (اتوار) کو ایران کے سرکاری میڈیا نے باضابطہ طور پر اُن کی شہادت کی تصدیق کر کے اعلان کیا۔ یعنی واقعہ خود 28 فروری کو پیش آیا، اور اس کی سرکاری تصدیق 1 مارچ کو نشر ہوئی۔
ایک ایسی شخصیت، جو چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ریاستِ ایران کی فکری، مذہبی اور سیاسی سمت کا تعین کرتی رہی، اچانک تاریخ کا حصہ بن گئی، مگر اپنے پیچھے نظریے، مزاحمت اور استقلال کی ایک طویل داستان چھوڑ گئی۔

سید علی حسینی خامنہ ای 19 اپریل 1939ء کو مشہد کے ایک دیندار اور علمی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آیت اللہ سید جواد خامنہ ای اپنے وقت کے جید عالمِ دین تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے دینی علوم کی تحصیل کے لیے مشہد اور قم کے علمی مراکز کا رخ کیا، جہاں فقہ، اصول، تفسیر اور اسلامی فلسفہ میں مہارت حاصل کی۔ نوجوانی ہی سے ان کے مزاج میں سنجیدگی، مطالعہ کا شوق اور فکری استقلال نمایاں تھا۔ شاہی حکومت کے خلاف انقلابی تحریک میں شمولیت کے سبب انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، مگر یہ آزمائشیں ان کے عزم کو مضمحل نہ کر سکیں بلکہ ان کے اندر ایک ایسے قائد کی تشکیل کرتی رہیں جو نظریے پر سمجھوتا کرنا نہیں جانتا تھا۔

1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد وہ نو تشکیل شدہ ریاست کے اہم ذمہ داران میں شمار ہوئے۔ 1981ء میں ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے، مگر صحت یابی کے بعد دوبارہ قومی خدمت میں مصروف ہو گئے۔ اسی سال وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے اور 1989ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ امام خمینیؒ کے وصال کے بعد انہیں سپریم لیڈر منتخب کیا گیا اور یوں ریاست کے سب سے اعلیٰ منصب کی ذمہ داری ان کے سپرد ہوئی۔ اس منصب پر ان کی حیثیت محض ایک سیاسی سربراہ کی نہ تھی بلکہ وہ نظریاتی رہنما اور مذہبی مرجع کی صورت میں بھی جانے جاتے تھے۔

ان کی قیادت کے دور میں ایران نے عالمی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور علاقائی کشیدگی کا سامنا کیا، مگر ساتھ ہی سائنسی ترقی، دفاعی خود کفالت اور تعلیمی میدان میں نمایاں پیش رفت بھی کی۔ ان کی تقاریر میں قومی خودمختاری، استکبار کے خلاف مزاحمت، اور اسلامی تشخص کے تحفظ پر مسلسل زور دیا جاتا رہا۔ ان کے حامی انہیں رہبرِ معظم، قائدِ انقلاب اور ولیِ امرِ مسلمین جیسے القابات سے یاد کرتے تھے، جو ان کی شخصیت سے وابستہ عقیدت کا اظہار ہیں۔

ذاتی زندگی میں سادگی، عبادت گزاری، مطالعے سے گہرا شغف اور نوجوان نسل سے خصوصی مکالمہ ان کے نمایاں اوصاف تھے۔ وہ ادب اور تاریخ کے مطالعے کو فکری بیداری کا ذریعہ سمجھتے تھے اور اپنے خطابات میں فکری استدلال اور دینی حوالوں کا حسین امتزاج پیش کرتے تھے۔ ان کی سیاسی بصیرت اور طویل المدتی حکمتِ عملی نے انہیں خطے کی سب سے بااثر شخصیات میں شامل رکھا۔

28 فروری 2026ء کو جب وہ جنگی کشیدگی کے نازک مرحلے میں قومی فرائض سرانجام دے رہے تھے، اسی دوران پیش آنے والے سانحے نے انہیں شہادت کے رتبے پر فائز کر دیا۔ ایران میں سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا، مساجد اور میدان عوام سے بھر گئے، اور ایک قوم نے اپنے رہنما کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ رخصت کیا۔ ان کی شہادت کو ان کے پیروکار قومی وقار، نظریاتی استقامت اور مزاحمتی سیاست کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

تاریخ ہمیشہ شخصیات کو ان کے اثرات کی بنیاد پر یاد رکھتی ہے۔ سید علی خامنہ ای کی زندگی جدوجہد، قیادت اور نظریاتی وابستگی کی ایک مسلسل داستان تھی۔ ان کے فیصلوں سے اختلاف یا اتفاق اپنی جگہ، مگر یہ امر مسلم ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کی سیاست پر گہرا اثر چھوڑا اور ایران کی شناخت کو ایک مخصوص فکری قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ آج جب ان کا نام لیا جاتا ہے تو ایک ایسے رہنما کی تصویر ابھرتی ہے جس نے مشکلات کے طوفان میں بھی استقلال کا چراغ روشن رکھا اور اپنے ماننے والوں کے نزدیک اسی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کیا۔شہید علی خامنہ ای کو تاریخ مزاحمت کی مضبوط روایت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گی۔

More posts