Baaghi TV

شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تیاریاں عروج پر

امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق نمازِ جنازہ کل تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں ادا کی جائے گی، جہاں ملکی و غیر ملکی شخصیات کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔رپورٹس کے مطابق شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو آخری رسومات کے لیے تہران منتقل کر دیا گیا ہے۔ نمازِ جنازہ میں دنیا بھر سے تقریباً 100 ممالک کے مندوبین، متعدد سربراہانِ مملکت، مذہبی رہنما، سیاسی شخصیات اور علمی حلقوں کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے، جبکہ ایرانی ذرائع کے مطابق جلوسِ جنازہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد شریک ہو سکتے ہیں۔ایران میں امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں غیر ملکی وفود کی جانب سے شہید رہبرِ انقلاب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی تقریب جاری ہے۔ عراق کی حشد الشعبی کی اعلیٰ قیادت سمیت مختلف ممالک کے سیاسی، مذہبی اور علمی رہنماؤں نے شہید رہنما کے جسدِ خاکی پر حاضری دی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امام خمینی حسینیہ میں منعقدہ الوداعی تقریب کے دوران شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ہال میں لایا گیا، جہاں ہزاروں سوگواروں نے "لبیک یا خامنہ ای” اور دیگر انقلابی نعروں کے ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہا۔سرکاری اطلاعات کے مطابق نمازِ جنازہ کے بعد شہید رہبرِ انقلاب کے جسدِ خاکی کو تہران سے قم منتقل کیا جائے گا، جہاں عوام آخری دیدار کریں گے۔ اس کے بعد میت کو عراق کے مقدس شہروں نجف اشرف اور کربلا لے جایا جائے گا، جبکہ بعد ازاں جسدِ خاکی کو دوبارہ ایران لا کر مشہد مقدس میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران کے خاتم الانبیا بریگیڈ نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ یا جلوس کے دوران کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوشش کی تو اس کا نہایت سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔بریگیڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "دشمن شہید رہبرِ انقلاب کے جنازے کو نشانہ بنانے سے قبل دو مرتبہ سوچ لے، کیونکہ ایسی کسی بھی کارروائی کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔”

ایران بھر میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ لاکھوں زائرین اور سوگوار مختلف شہروں سے تہران پہنچ رہے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملکی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔

More posts