Baaghi TV

واٹر گن سے سیاحوں اور شہریوں کو ہراساں کرنے والا 14 سالہ لڑکا ایک ہفتے میں دو بار گرفتار

پیرس: فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واٹر گن کے ذریعے سیاحوں، سائیکل سواروں اور موٹر سواروں کو ہراساں کرنے کے الزامات میں ایک 14 سالہ لڑکے کو ایک ہی ہفتے میں دو مرتبہ گرفتار کر لیا گیا۔

فرانسیسی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ نوجوان گزشتہ کئی ہفتوں سے پیرس کے مشہور سینٹ مارٹن کینال کے اطراف مختلف شرارتوں میں ملوث رہا۔ وہ خود کو سوشل میڈیا پر "کسٹمز آفیسر” قرار دیتا تھا اور شہریوں سے مذاق کے نام پر واٹر گن سے پانی چھڑکنے کے بدلے دو یورو طلب کرتا تھا۔رپورٹس کے مطابق نوجوان نے دعویٰ کیا کہ اسے یہ خیال الجزائر میں بعض بدعنوان کسٹمز اہلکاروں کے طرزِ عمل سے ملا، جہاں مبینہ طور پر رشوت دے کر تلاشی سے بچا جا سکتا ہے۔ اس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ اکثر لوگوں پر پانی پھینک کر بغیر معذرت کیے وہاں سے بھاگ جاتا تھا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دیگر ویڈیوز میں اسے نہر کے کنارے موجود ایک خاتون کو پانی میں دھکا دیتے، ایک برقی اسکوٹر پر کرسی باندھ کر گھومتے، نہر میں کرسی پھینکتے، مشروب کا کین چرانے اور ایک پولیس اہلکار پر پانی پھینکتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ ایک اور ویڈیو میں اس پر ایک خاتون کے اپارٹمنٹ میں داخل ہو کر نامناسب رویہ اختیار کرنے کا بھی الزام سامنے آیا۔فرانسیسی اخباروں کے مطابق نوجوان کو 27 جون کو توڑ پھوڑ اور اجتماعی تشدد کے الزامات میں پہلی بار گرفتار کیا گیا، جبکہ چند روز بعد دوبارہ گرفتار کر کے اس پر سنگین چوری، پولیس اہلکاروں کی توہین اور گرفتاری میں مزاحمت کے الزامات عائد کیے گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسری گرفتاری ایک ایسے واقعے کے بعد عمل میں آئی جس میں متعدد افراد پر ایک موبائل فون چھیننے کا الزام تھا۔ پولیس نے اس واقعے میں تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔

ادھر نوجوان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا مؤکل سوشل میڈیا پر نسل پرستانہ تبصروں، دھمکیوں اور ہراسانی کا نشانہ بن رہا ہے۔ وکیل کے مطابق ایک کم عمر بچے کی شرارتوں کو غیر معمولی سیاسی تنازع بنا دیا گیا ہے، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو معمولی شرارت قرار نہیں دیا جا سکتا اور والدین و حکام کو مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔واقعے نے فرانس میں کم عمر افراد کے جرائم، سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کی دوڑ اور والدین کی ذمہ داری سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

More posts