ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضاعی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور مخالف فریق کے درمیان موجود مفاہمتی یادداشت اب مؤثر نہیں رہی اور موجودہ حالات میں اسے ختم شدہ تصور کیا جا رہا ہے۔
تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابراہیم رضاعی نے کہا کہ حالیہ پیش رفت کے بعد دشمن باضابطہ طور پر جنگ کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق مخالف فریق نے مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے باعث ایران خود کو اس معاہدے کا پابند نہیں سمجھتا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات ایرانی پارلیمنٹ میں آبنائے ہرمز کی سلامتی، دفاع اور پائیدار ترقی سے متعلق ایک اسٹریٹیجک ایکشن پلان پیش کیا گیا، جسے پارلیمنٹ نے منظوری دے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں تیار کیا گیا ہے تاکہ ایران اپنے قومی مفادات اور اہم بحری گزرگاہ کے تحفظ کو یقینی بنا سکے۔
ابراہیم رضاعی نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور اس صورتحال میں ایران اپنی دفاعی حکمت عملی کے مطابق فیصلے کرے گا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور توانائی کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچتی ہے۔ اسی وجہ سے اس آبی راستے کی صورتحال پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز رہتی ہیں اور یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال مسلسل کشیدہ ہے اور مختلف ممالک اس تنازع کے سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں ایران کی جانب سے منظور کیے گئے اسٹریٹیجک منصوبے کی تفصیلات اور اس کے عملی اقدامات پر عالمی برادری کی گہری نظر رہے گی۔
ایران نے مفاہمتی یادداشت ختم قرار دے دی، آبنائے ہرمز پر اسٹریٹیجک پلان منظور
