بھارت کی جانب سے بگلیہار اور سلال ڈیمز سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں دریائے چناب کے کنارے واقع علاقوں کے لیے سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر فلڈ فورکاسٹ ڈپارٹمنٹ نے الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو احتیاطی اقدامات کی ہدایت کر دی ہے۔
فلڈ فورکاسٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث ہیڈ مرالہ، خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو صورتحال پر نظر رکھنے اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔
محکمہ فلڈ فورکاسٹ کی رپورٹ کے مطابق دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان موجود ہے، جبکہ دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ اور چشمہ بیراج کے مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
متعلقہ اداروں نے ریسکیو اور امدادی ٹیموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔ آبی ذخائر اور دریاؤں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ کو ممکنہ متاثرہ علاقوں میں حفاظتی انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں کے موسم میں دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کے باعث احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریا کے کناروں، برساتی نالوں اور نشیبی علاقوں میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی اطلاع کی صورت میں فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
بھارت نے بگلیہار اور سلال ڈیمز سے پانی چھوڑ دیا، دریائے چناب میں سیلاب کا خدشہ
