اسٹیٹ بینک آف پاکستان آج اگلے 50 دنوں کے لیے نئِی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا۔
معاشی ماہرین اور مارکیٹ کے نمائندوں کی اکثریت کو توقع ہے کہ مرکزی بینک شرح سود کو بلا تغیر 11.5 فیصد پر ہی برقرار رکھے گا،رواں سال اپریل میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور معاشی خدشات کے پیشِ نظر شرح سود میں 120 پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد جون کے اجلاس میں بھی اسے اسی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 97 فیصد معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، جبکہ صرف 3 فیصد افراد 120 پوائنٹس کی کمی کی توقع رکھتے ہیں۔
اس وقت ملک کے زیادہ تر معاشی اشاریے بہتری کی سمت اشارہ کر رہے ہیں مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 136 ملین ڈالر تک محدود رہا ہے جو کہ ہدف کے مطابق ہے اس خسارے کی بڑی وجہ ملک میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے باعث اشیاء کی واردات میں اضافہ ہے۔
اس کے علاوہ بھاری غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں کے باوجود جون 2026 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو 18 ارب ڈالر کے ہدف تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہےبیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی خطیر رقم بھی 41.6 ارب ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہے جس سے معیشت کو بڑا سہارا ملا ہے۔
ملک کی معاشی سمت پر بات کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ انڈیکیٹرز مثبت سمت میں جا رہے ہیں اور آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی شرح میں مزید کمی دیکھنے کو ملے گی۔
