بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ حالیہ دنوں میں نیٹ (NEET) امتحان کے معاملے پر ملک گیر احتجاج کے بعد اب گجرات کی ایک آیوروید یونیورسٹی میں بھی امتحانی پرچہ مبینہ طور پر لیک ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے ایک بار پھر بھارتی تعلیمی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گجرات کے شہر جام نگر میں واقع آیوروید یونیورسٹی کے بی اے ایم ایس تھرڈ ایئر کے ایم ایس سرجیکل سسٹم کے امتحان کا پرچہ امتحان سے قبل واٹس ایپ گروپس پر گردش کرتا رہا۔ بتایا گیا ہے کہ امتحان میں شامل 12 سوالات میں سے 11 سوالات وہی تھے جو پہلے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے تھے۔
اس یونیورسٹی سے 20 سے 25 کالجوں کا الحاق ہے، جہاں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ واقعے کے بعد طلبہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور وہ امتحان کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
معاملہ سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ تاہم حکام نے دیگر مضامین کے امتحانات معمول کے مطابق جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق متعلقہ امتحان 20 جولائی کو منعقد ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر امتحان معمول کے مطابق جاری رہا، لیکن بعد ازاں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ سوالیہ پرچہ امتحان شروع ہونے سے کافی پہلے مختلف واٹس ایپ گروپس میں شیئر کیا جا چکا تھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں نیٹ امتحان کے مبینہ پیپر لیک پر شدید عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ اس معاملے پر ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ نے احتجاج کیا اور امتحانی نظام میں شفافیت اور اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ موجودہ واقعے نے ایک بار پھر امتحانات کے انعقاد اور سکیورٹی انتظامات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
واضح رہے کہ پیپر لیک سے متعلق حالیہ دعوؤں کی تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ حکام کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے گا۔
بھارت میں ایک اور امتحانی پرچہ لیک
