کامیابی کا راستہ ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا۔ اکثر لوگ بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں، منصوبے بناتے ہیں اور بڑے جوش کے ساتھ آغاز بھی کرتے ہیں۔ لیکن کچھ ہی دنوں یا ہفتوں بعد وہ جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے اور کام ادھورا رہ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ چھوٹے قدم روز اٹھاتے ہیں، رکاوٹوں کے باوجود نہیں رکتے، وہی آخر میں منزل تک پہنچتے ہیں۔ اسی کا نام تسلسل ہے۔
تسلسل کا مطلب ہے کسی ایک کام کو وقفے وقفے سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ کرتے رہنا۔ یہ کوئی بہت بڑا قدم نہیں مانگتا۔ یہ روزانہ کا تھوڑا سا عمل مانگتا ہے۔ ایک مصنف روز ایک صفحہ لکھے تو ایک سال میں 365 صفحے کی کتاب بن جاتی ہے۔ ایک طالبعلم روز 30 منٹ پڑھے تو سال کے آخر میں وہ سب سے آگے ہوتا ہے۔ ایک کاروباری شخص روز ایک نیا گاہک سے بات کرے تو سال بھر میں اس کا نیٹ ورک بہت بڑا بن جاتا ہے۔ بڑی کامیابیاں دراصل چھوٹے تسلسلوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا بدلی وہ ذہین ترین نہیں تھے، بلکہ سب سے زیادہ مستقل مزاج تھے۔ تھامس ایڈیسن نے بلب بنانے کے لیے ہزاروں بار ناکامی کے بعد بھی تجربہ کرنا نہیں چھوڑا۔ وہ کہتے تھے "میں ناکام نہیں ہوا، میں نے صرف 10 ہزار طریقے دریافت کیے ہیں جو کام نہیں کرتے۔” یہ تسلسل ہی تھا جس نے انہیں کامیاب بنایا۔ اسی طرح کوئی کھلاڑی ایک دن میں چیمپئن نہیں بنتا۔ وہ روز گر کر اٹھتا ہے، روز پریکٹس کرتا ہے، تب جا کر اس کے ہاتھ میں میڈل آتا ہے۔
تسلسل کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ یہ عادت بن جاتا ہے۔ جب آپ کوئی کام روز کرتے ہیں تو دماغ اسے معمول سمجھنے لگتا ہے۔ پھر اس کے لیے اضافی محنت یا حوصلے کی ضرورت نہیں رہتی۔ جیسے دانت صاف کرنا، نماز پڑھنا۔ شروع میں مشکل لگتا ہے، پھر یہ خودکار ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ 21 سے 66 دن تک کسی کام کو مسلسل کریں تو وہ آپ کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔
لیکن تسلسل قائم رکھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ "کامل بننے کا انتظار” ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ جب وقت ملے گا، جب موڈ ہوگا، جب سب بہتر ہوگا تب شروع کریں گے۔ اور یہ "تب” کبھی نہیں آتا۔ کامیاب لوگ کامل حالات کا انتظار نہیں کرتے۔ وہ کم وسائل، کم وقت اور کم موڈ کے ساتھ بھی شروع کر دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ 50 فیصد محنت روزانہ، 100 فیصد محنت کبھی کبھار سے بہتر ہے۔
یاد رکھیں، دریا بھی ایک ایک قطرے سے بنتا ہے۔ پہاڑ بھی ایک ایک پتھر سے اونچا ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی چاہتے ہیں تو بڑی چھلانگ لگانے کے بجائے روز کا ایک چھوٹا قدم منتخب کریں اور اسے کبھی مت چھوڑیں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ٹیلنٹ، موقع اور قسمت سب اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن ان سب پر بھاری تسلسل ہے۔ کیونکہ تسلسل رکھنے والا شخص ہار ماننا سیکھتا ہی نہیں۔ اور جو ہار ماننا نہیں جانتا، ایک دن دنیا اسے کامیاب مان لیتی ہے۔
