Baaghi TV


کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کا جان سے مارنے کی دھمکیوں کا دعویٰ، بی جے پی پر سنگین الزامات

‎بھارت میں حالیہ احتجاجی تحریک کے بعد منظرعام پر آنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ابھیجیت دپکے کا کہنا ہے کہ انہیں مسلسل فون کالز کے ذریعے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور انکار کی صورت میں قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔
‎اورنگ آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے کہا کہ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران بھی انہیں سنگین نوعیت کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق نامعلوم افراد نے انہیں احتجاج ختم کرنے اور بی جے پی میں شامل ہونے کا کہا، بصورت دیگر انہیں گولی مارنے کی دھمکی دی گئی۔
‎انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی "محبت کی زبان” ہے، جس میں مخالفین کو ڈرا دھمکا کر اپنی بات منوانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور مختلف ذرائع سے مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا۔
‎ابھیجیت دپکے نے مزید کہا کہ انہیں متعدد مرتبہ بی جے پی میں شمولیت کی پیش کش کی گئی، لیکن انہوں نے ہر بار انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں بی جے پی میں شامل ہونا ہوتا تو وہ بہت پہلے یہ فیصلہ کر چکے ہوتے، تاہم وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔
‎ملکی سیاست میں مستقبل کے کردار سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایک فرد کو اس حد تک طاقتور بنا دیا گیا ہے کہ اسے آئین سے بھی بالاتر سمجھا جانے لگا ہے، جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق بھارت کی بہتری اسی میں ہے کہ عوام متحد ہو کر آئینی اور جمہوری اصولوں کے مطابق اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔
‎کاکروچ جنتا پارٹی پر بیرون ملک سے فنڈنگ حاصل کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے کہا کہ اگر واقعی ایسی کوئی بات ہے تو یہ بھارتی وزارت داخلہ اور سیکیورٹی اداروں کی ناکامی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں وزیر داخلہ امیت شاہ کو اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
‎انہوں نے جنتر منتر میں احتجاج کے دوران ہونے والے پتھراؤ اور طلبہ پر پولیس کی جانب سے کیے گئے لاٹھی چارج کا ذمہ دار بھی امیت شاہ کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام کارروائیاں منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں تاکہ احتجاج کو دبایا جا سکے۔
‎دوسری جانب، ان الزامات پر بی جے پی یا بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔

More posts