مراکش سے ہسپانوی خودمختار علاقے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران کم از کم 34 تارکین وطن ہلاک ہو گئے، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہزاروں افراد نے خشکی اور سمندر کے راستے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ حالیہ برسوں کے سب سے بڑے سرحدی بحرانوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
سیوٹا کے علاقائی صدر خوان خیسوس ویواس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے 34 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے اموات کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ ایک روز کے دوران تقریباً 60 ہزار افراد مراکش سے سیوٹا میں داخل ہوئے، جن میں سے کئی افراد نے سمندر میں تیر کر یا ساحلی رکاوٹ عبور کر کے ہسپانوی حدود میں پہنچنے کی کوشش کی۔
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے صورتحال کو اسپین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بحران سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل متحرک کر دیے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ وزیر داخلہ فرنانڈو گراندے مارلاسکا کے ہمراہ سیوٹا کا دورہ کریں گے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
ہسپانوی وزارت داخلہ کے مطابق جمعہ تک تقریباً 25 ہزار تارکین وطن کو واپس مراکش بھیجا جا چکا ہے، جبکہ مزید افراد کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے۔
سیوٹا میں سول گارڈ اہلکاروں کی نمائندہ تنظیم کے سربراہ راشد صبیحی نے اس صورتحال کو "شدید انسانی بحران” قرار دیا۔ ان کے مطابق ہزاروں تارکین وطن، جن میں بڑی تعداد بغیر سرپرست بچوں کی بھی ہے، فٹ پاتھوں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ بہت سے لوگ شہر کی سڑکوں پر بے مقصد گھوم رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کئی افراد سمندر میں ڈوب گئے، جبکہ بعض افراد تاراخال (Tarajal) ساحل پر سرحدی رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کے دوران بھگدڑ کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت، سرحدی سلامتی اور انسانی بحران سے متعلق سنگین سوالات کو اجاگر کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے متاثرین کی حفاظت اور ہنگامی امداد کی فراہمی پر زور دیا ہے، جبکہ ہسپانوی اور مراکشی حکام صورتحال پر قابو پانے کے لیے مشترکہ اقدامات کر رہے ہیں۔
مراکش سے ہسپانوی علاقے سیوٹا میں داخلے کی کوشش، 34 تارکین وطن ہلاک
