Baaghi TV


کوئٹہ کان حادثہ: جاں بحق مزدوروں کی تعداد 34 ہو گئی، ریسکیو آپریشن جاری

‎کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے المناک حادثے میں جاں بحق مزدوروں کی تعداد 34 ہو گئی ہے، جبکہ کان میں پھنسے دیگر کان کنوں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔ امدادی ٹیمیں انتہائی دشوار حالات میں مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے متاثرہ مزدوروں تک رسائی کی کوشش کر رہی ہیں۔
‎صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق ریسکیو اہلکار جدید آلات کی مدد سے ملبہ ہٹا رہے ہیں اور کان کے اندر موجود مزدوروں کو بحفاظت نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام مزدوروں تک رسائی حاصل نہیں ہو جاتی۔
‎صوبائی وزیر برائے مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ امدادی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں اور حکومت بلوچستان ریسکیو کارروائیوں کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جا رہی اور تمام متعلقہ ادارے مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
‎میر شعیب نوشیروانی نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہر جاں بحق مزدور کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے جبکہ ہر زخمی مزدور کو 3 لاکھ روپے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
‎وزیراعظم شہباز شریف نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ متاثرہ مزدوروں کے ریسکیو اور ریلیف تک امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں۔ انہوں نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ محنت کش مزدور ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، اس لیے کوئلہ کانوں میں ان کی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اور مستقل حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
‎وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔ دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی سورینج میں پیش آنے والے اس المناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔
‎اس حادثے نے ایک بار پھر کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات، مزدوروں کی جانوں کے تحفظ اور حفاظتی قوانین پر مؤثر عمل درآمد سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کانوں میں جدید حفاظتی نظام، باقاعدہ معائنہ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے مؤثر انتظامات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

More posts