Baaghi TV


ایران کی بحری ناکہ بندی سے اسرائیل کا دفاع مشکل، امریکی جنرل کا پینٹاگون کو انتباہ

‎امریکا کی یورپی فوجی کمان کے سربراہ نے پینٹاگون کو خبردار کیا ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کے باعث اسرائیل کو بیلسٹک میزائل حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے درکار بحری وسائل پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے، جس سے امریکی دفاعی حکمت عملی کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
‎امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یورپیئن کمانڈ کے سربراہ جنرل الیکسس گریگوری گرینکیوچ نے ذاتی حیثیت میں پینٹاگون کو آگاہ کیا کہ اگر انہیں مزید ایک امریکی ڈسٹرائر فراہم نہ کیا گیا تو انہیں امریکا اور اسرائیل کے دفاعی تقاضوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دینا پڑ سکتی ہے۔
‎رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کے احکامات کے بعد امریکی بحریہ پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔ مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات امریکی ڈسٹرائرز کئی برسوں سے اسرائیل کو ممکنہ بیلسٹک میزائل حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے مشن پر موجود ہیں۔
‎امریکی فوج کی یورپیئن کمان اسرائیل کے دفاع میں اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ وہ بحیرۂ روم میں امریکی فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہی کمانڈ نیٹو اتحاد کے رکن ممالک کے دفاع اور یورپ میں ممکنہ روسی خطرات سے نمٹنے کی تیاریوں کی بھی ذمہ دار ہے، جس کے باعث اس پر بیک وقت متعدد محاذوں کا دباؤ موجود ہے۔
‎ایک امریکی اہلکار کے مطابق اس وقت دو امریکی ڈسٹرائر بحیرۂ روم میں تعینات ہیں، جبکہ تین ڈسٹرائر اسپین کے شہر روٹا میں موجود ہیں، جہاں سے وہ ضرورت پڑنے پر مختلف آپریشنز کے لیے روانہ کیے جا سکتے ہیں۔
‎تاحال امریکی محکمہ دفاع نے اس رپورٹ یا جنرل گرینکیوچ کے مبینہ انتباہ پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث امریکی بحری اور دفاعی وسائل کی تقسیم ایک اہم موضوع بن چکی ہے۔

More posts