Baaghi TV

نظام کی ناکامی کا حل صرف نئے صوبوں کی تشکیل میں ہے،نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رہنماؤں عمران اسماعیل، محمد علی درانی، وسیم اختر اور مولوی محمود نے لاہور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا موجودہ سیاسی و انتظامی نظام مکمل طور پر ناکام اور بیوروکریسی و حکمرانوں کی وراثت بن چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں سیاسی ٹھہراؤ اور معاشی استحکام کے لیے فارم 47 کی موجودہ حکومت کو فارغ کر کے "نیشنل یونیٹی حکومت” قائم کی جائے جو تمام سیاسی جماعتوں کے تعاون سے نئے انتظامی صوبوں کی تشکیل ممکن بنائے۔

​پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کے اپنے اعتراف کے مطابق موجودہ سسٹم بیٹھ چکا ہے۔ ایک طرف حکمران 11 ارب روپے کا جہاز خرید رہے ہیں، بیوروکریسی میں اربوں روپے اور لاکھوں کے کیک بانٹے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب کوئٹہ جیسے اہم شہر میں ایک ایم آر آئی مشین تک میسر نہیں،​انہوں نے کہا:​صوبوں کے تمام بنیادی اختیارات صرف وزراء اعلیٰ تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جس سے وزراء بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں۔​بلدیاتی انتخابات کے بعد بھی صوبائی سطح کے مسائل حل ہونا ممکن نہیں ہیں، جب تک کہ نئے انتظامی صوبے نہ بنائے جائیں تحریک انصاف اور عمران خان کو مائنس کر کے ملک میں کوئی بھی سیاسی یا آئینی اصلاحات کام نہیں کر سکتیں۔​

​سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سب سے مقبول سیاسی شخصیت اس وقت عمران خان ہیں اور ان کے بغیر نئے صوبوں کی تشکیل کا ڈائیلاگ آگے نہیں بڑھ سکتا۔
​انہوں نے اعلان کیا کہ کمیٹی اگلے دو سے تین دنوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر رہی ہے تاکہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ سے ملاقات کی قانونی اجازت حاصل کی جا سکے، جس کے بعد اس اہم قومی معاملے پر ان سے مشاورت کی جائے گی۔ ​رہنما نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی مولوی محمود نے وضاحت کی کہ وہ سندھ کی کسی سیاسی یا جغرافیائی تقسیم کی بات نہیں کر رہے، بلکہ محض انتظامی بنیادوں پر 4 یونٹس بنانے کے حامی ہیں تاکہ گھوٹکی جیسے پسے ہوئے اضلاع میں ترقیاتی کام ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام نہیں آئے گا، کوئی بھی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔

​سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان دونوں جماعتوں نے بہاولپور، ہزارہ اور جنوبی پنجاب کے صوبوں کا راستہ روکا اور پنجاب اسمبلی میں قرارداد لا کر عوام کے ساتھ دھوکہ کیا۔​انہوں نے چیلنج دیا کہ اگر یہ جماعتیں عوام میں گئیں تو بہاولپور کے لوگ انہیں مسترد کر دیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ سیٹ اپ کو ختم کر کے ایسی حکومت لائی جائے جو فوری طور پر آئینی طریقہ کار کے تحت نئے صوبوں کے قیام کی راہ ہموار کرے۔

More posts