Baaghi TV

ٹرمپ انتظامیہ کے نئے عالمی ٹیرف کیخلاف امریکا کی 25 ریاستوں نےعدالت میں مقدمہ دائر کر دیا

court

امریکا کی 25 ریاستوں اور دولتِ مشترکہ کے علاقوں پر مشتمل اتحاد نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے مجوزہ 10 سے 12.5 فیصد عالمی درآمدی ٹیرف کے خلاف امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

ریاستوں کا مؤقف ہے کہ امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے جبری مشقت کے معاملے پر کی گئی تحقیقات کو محض قانونی جواز کے طور پر استعمال کرتے ہوئے وہ تجارتی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی ہے جنہیں وفاقی عدالتیں پہلے ہی مسترد کر چکی ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ یو ایس ٹی آر نے صرف ڈھائی ماہ میں 60 معیشتوں کی تحقیقات مکمل کیں، حالانکہ اس نوعیت کی تحقیقات میں عموماً ایک سال سے زیادہ وقت درکار ہوتا ہےانتظامیہ نے پہلے ہی ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ کر رکھا تھا، کیونکہ خام مال اور تیار شدہ مصنوعات پر یکساں ٹیرف عائد کیا گیا ہے، بغیر اس کے کہ مختلف ممالک میں جبری مشقت کی صورتحال کا الگ الگ جائزہ لیا جائے۔

نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے کہا کہ امریکی آئین کے مطابق صدر کو اپنی مرضی سے کسی بھی ملک پر وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں،نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکُل نے ان اقدامات کو ’محنت کش خاندانوں پر ٹیکس‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اشیائے خور و نوش اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ٹریڈ ایکٹ کی دفعہ 301 کے تحت عالمی ٹیرف نافذ کرنے کی تیسری کوشش بھی غیر قانونی ہےانتظامیہ کے اقدامات من مانی، قانون کے منافی اور آئین کی خلاف ورزی ہیں، کیونکہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہےریاستوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے مقدمے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ قانون کے مطابق اختیارات استعمال کر رہی ہے ترجمان کش دیسائی کے مطابق امریکا ایسے غیر منصفانہ اقدامات، پالیسیوں اور طریقوں کے خاتمے کے لیے قانونی اختیار استعمال کر رہا ہے جو امریکی تجارت کو نقصان پہنچاتے ہیں، لیبر قوانین پر عمل درآمد میں غیر ملکی ناکامی امریکی کارکنوں کے مفادات کو متاثر کرتی ہے، جبکہ سیکشن 301 کے تحت ٹیرف امریکی تجارتی پالیسی کا مؤثر اور قانونی ذریعہ رہے ہیں۔

More posts