Baaghi TV

‎افغانستان میں طالبان مخالف نئے مسلح گروپ کے قیام کی اطلاعات

‎افغانستان کے شمالی صوبے فاریاب میں طالبان مخالف ایک نئے مسلح گروپ کے قیام کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جسے بعض ذرائع نے طالبان حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت کا حصہ قرار دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس گروپ کا نام جبۂ راہِ بخش (لبریشن فرنٹ) رکھا گیا ہے اور اس کی قیادت گل محمد پہلوان کر رہے ہیں۔
‎رپورٹس کے مطابق یہ نیا گروپ آئندہ چند روز میں اپنے تنظیمی ڈھانچے، مقاصد اور حکمت عملی سے متعلق باضابطہ بیان جاری کرے گا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گروپ سے وابستہ جنگجوؤں نے پیر کے روز فاریاب میں طالبان فورسز کو نشانہ بنایا، جبکہ ضلع غورماچ میں بھی طالبان اہلکاروں پر ایک اور حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
‎طالبان مخالف ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تعلیم، روزگار اور انسانی حقوق سے متعلق پابندیوں کے باعث مزاحمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان ذرائع نے نسلی امتیاز، بدعنوانی اور سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ بعض دعوؤں کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران 186 سابق افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک کیے گئے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
‎رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس نئے گروپ کا قیام طالبان مخالف تنظیموں کے دائرہ کار میں توسیع کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے قبل جنرل سمیع سادات کی قیادت میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ اور جنرل یاسین ضیا کی سربراہی میں افغانستان فریڈم فرنٹ بھی طالبان کے خلاف مسلح مہمات کا اعلان کر چکے ہیں۔
‎طالبان مخالف گروپوں نے حالیہ مہینوں میں بدخشاں اور بغلان صوبوں میں طالبان کے ٹھکانوں اور قافلوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جس سے مختلف مزاحمتی دھڑوں کے درمیان ممکنہ تعاون اور رابطوں کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

More posts