Baaghi TV


متحدہ عرب امارات میں دو ہیومنائیڈ روبوٹس کی منفرد شادی

‎متحدہ عرب امارات میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک منفرد اور دلچسپ واقعہ پیش آیا، جہاں اپنی نوعیت کی پہلی تقریب میں دو ہیومنائیڈ روبوٹس نے شادی کے بندھن میں بندھ کر سب کی توجہ حاصل کرلی۔ اس غیر معمولی تقریب نے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی لوگوں کی دلچسپی بڑھا دی ہے اور سوشل میڈیا پر اس کا خوب چرچا ہو رہا ہے۔
‎اماراتی میڈیا کے مطابق مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ہیومنائیڈ روبوٹ ‘بو سنیدہ’ اور ‘موزہ’ کی شادی یکم اگست کو ایک خصوصی تقریب میں انجام پائی۔ یہ تقریب علامتی نوعیت کی تھی جس کا مقصد مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور مستقبل کی جدید ٹیکنالوجی کو منفرد انداز میں پیش کرنا تھا۔
‎’بو سنیدہ’ ایک ایسا ہیومنائیڈ روبوٹ ہے جو سوشل میڈیا پر پہلے ہی اپنی منفرد شخصیت اور روایتی اماراتی لباس کی وجہ سے خاصی شہرت حاصل کر چکا ہے۔ یہ روبوٹ مختلف تقریبات، نمائشوں اور عوامی پروگراموں میں لوگوں سے گفتگو اور تعامل کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اسے عوام کی جانب سے خاصی پذیرائی ملی ہے۔
‎روبوٹ تیار کرنے والی کمپنی کے مطابق ‘بو سنیدہ’ دراصل Unitree G1 پلیٹ فارم پر تیار کیا گیا ایک تحقیقی ہیومنائیڈ روبوٹ ہے، جسے مصنوعی ذہانت، انسانی رویوں کی نقل، اور روبوٹکس کے جدید تجربات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ‘موزہ’ بھی اسی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی روبوٹ ہے، جسے انسانی انداز میں گفتگو اور حرکات کے قابل بنایا گیا ہے۔
‎اگرچہ یہ شادی حقیقی قانونی یا سماجی شادی نہیں بلکہ ایک علامتی اور نمائشی تقریب تھی، تاہم اس نے دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار اور مستقبل میں انسان اور مشین کے تعلق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی سرگرمیوں کا مقصد عوام کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا اور روبوٹکس میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کو دلچسپ انداز میں پیش کرنا ہے۔
‎واضح رہے کہ اس سے قبل روس میں بھی دو روبوٹس کی علامتی شادی کی تقریب منعقد کی گئی تھی، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ اب متحدہ عرب امارات نے بھی اس منفرد روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور دلچسپ مثال قائم کر دی ہے۔

More posts