چین کے مختلف علاقوں میں مسلسل موسلا دھار بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال سنگین ہوگئی ہے، جس کے پیش نظر حکام نے بڑے پیمانے پر حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے ایک لاکھ 15 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق حالیہ بارشوں نے شمالی اور وسطی چین کے متعدد علاقوں کو شدید متاثر کیا، جہاں نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی اور معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پر 49 ہزار 925 خاندانوں کے ایک لاکھ 15 ہزار 756 افراد کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی شانشی، مغربی گوانژونگ اور جنوبی شانسی کے کئی علاقوں میں پیر اور منگل کی درمیانی شب ہلکی سے درمیانی بارش ریکارڈ کی گئی، تاہم متعدد علاقوں میں موسلا دھار بارش نے سیلابی صورتحال پیدا کر دی۔
لوونان، ٹونگوان اور بائہی کاؤنٹیاں سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔ لوونان کے شپو اسٹیشن پر 136.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو حالیہ اسپیل کی سب سے زیادہ مقدار ہے۔
شدید بارشوں کے باعث ہانجیانگ، ویہی، ڈانجیانگ اور زرد دریا (ییلو ریور) کے معاون دریاؤں میں پانی کا بہاؤ غیر معمولی حد تک بڑھ گیا، جس سے متعدد مقامات پر سیلابی کیفیت پیدا ہوئی۔
چینی حکام کے مطابق 28 مختلف دریاؤں اور 40 ہائیڈرولوجیکل اسٹیشنوں پر پانی کی سطح خطرے کی حد سے تجاوز کر گئی، جہاں مجموعی طور پر 47 سیلابی واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
ریسکیو ادارے، مقامی انتظامیہ اور امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ لوگوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، دریا اور ندی نالوں کے قریب نہ جانے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
چین میں شدید بارشوں اور سیلاب، ایک لاکھ 15 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل
