Baaghi TV


یومِ سیاہ کشمیر پر کراچی میں پی ٹی آئی کا احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج

‎کراچی میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کی جانب سے نکالے گئے احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی، جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
‎ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ٹی آئی سندھ نے 5 اگست کو یومِ سیاہ کشمیر کے حوالے سے فوارا چوک پر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ مظاہرین جب مقررہ مقام پر جمع ہوئے تو پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا، جس کے نتیجے میں دونوں جانب تلخ کلامی ہوئی اور صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
‎پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، جس کے دوران متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں پی ٹی آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مسرور سیال بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق لاٹھی چارج کے بعد احتجاجی مظاہرہ منتشر ہوگیا جبکہ پولیس نے علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی۔
‎ڈاکٹر مسرور سیال کی گرفتاری پر پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے پولیس کارروائی کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ہونے والا احتجاج پرامن تھا، لیکن سندھ پولیس نے شہریوں کے آئینی حقِ احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی۔
‎حلیم عادل شیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈاکٹر مسرور سیال سمیت کارکنوں کی گرفتاری جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلاف رائے کو طاقت کے ذریعے دبانا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے مناسب طرز عمل نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ میں سیاسی کارکنوں کو انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے اور مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
‎دوسری جانب پولیس کی جانب سے فوری طور پر اس کارروائی کی تفصیلی وضاحت جاری نہیں کی گئی، تاہم ذرائع کے مطابق پولیس نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے کارروائی کی۔
‎یومِ سیاہ کشمیر ہر سال 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے خلاف منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے مختلف شہروں میں سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے ریلیاں، احتجاجی مظاہرے اور یکجہتی کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، جن میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اظہار کیا جاتا ہے۔

More posts