گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شامل براڈ پیک پر پیش آنے والے افسوسناک حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ صدر الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق اب تک 9 کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں، جبکہ مزید 2 لاپتہ افراد کی تلاش بدستور جاری ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر الپائن کلب نے بتایا کہ ریسکیو کارروائی کے پہلے روز دو کوہ پیماؤں کی لاشیں نکالی گئیں، جبکہ تیسرے لاپتہ شخص کے جسم کے کچھ اعضا بھی برآمد ہوئے تھے۔ بعد ازاں امدادی کارروائیاں مزید تیز کی گئیں اور دیگر لاشوں کو بھی تلاش کر لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے دن برآمد ہونے والی لاشوں میں نیپال سے تعلق رکھنے والے ایک کوہ پیما اور سلطنت عمان کی ایک خاتون کوہ پیما شامل تھیں۔ پاک فوج نے دشوار گزار علاقے میں امدادی کارروائیوں کے لیے ہیلی کاپٹر فراہم کیے، جن کی مدد سے ابتدائی مرحلے میں پانچ لاشوں کو منتقل کیا گیا۔
صدر الپائن کلب کے مطابق آج مزید چار نیپالی کوہ پیماؤں اور ایک چینی کوہ پیما کی لاشیں بھی محفوظ مقام پر منتقل کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور کوہ پیما کی لاش کی شناخت ہو چکی ہے، تاہم وہ انتہائی دشوار گزار اور ناقابلِ رسائی مقام پر موجود ہے، جس کے باعث اسے فوری طور پر منتقل کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ باقی دو لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں اور خراب موسمی حالات کے باوجود آپریشن جاری رکھا گیا ہے۔
براڈ پیک پر پیش آنے والا یہ سانحہ حالیہ برسوں میں پاکستان کی کوہ پیمائی کی تاریخ کے بڑے حادثات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتہ افراد کی تلاش اور لاشوں کی منتقلی تک ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔
براڈ پیک سانحہ: 9 کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد، 2 کی تلاش جاری
