Baaghi TV


برطانوی میڈیا پر تنقید، پاکستان کی خودمختاری اور دوہرے معیار پر سوالات

‎برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی پر ایک سخت تنقیدی بیان سامنے آیا ہے، جس میں پاکستان کی خودمختاری، ملکی قوانین اور عالمی میڈیا کے مبینہ دوہرے معیار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
‎بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے، اس لیے ہر فرد اور ادارے پر لازم ہے کہ وہ ملک کے قوانین کا احترام کرے۔ بیان کے مطابق پاکستان کو کسی بھی بیرونی طاقت کی نوآبادی سمجھنے کا تصور حقیقت سے دور ہے اور ایسے رویوں کی کوئی گنجائش نہیں۔
تنقیدی بیان میں عالمی میڈیا، بالخصوص بی بی سی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ مختلف بین الاقوامی تنازعات میں یکساں معیار اختیار نہیں کرتا۔ اس سلسلے میں غزہ کی صورتحال اور مقبوضہ کشمیر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا گیا کہ ان معاملات پر غیر جانب دار اور مؤثر رپورٹنگ کیوں نظر نہیں آتی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جب بعض ممالک میں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر میڈیا کی سرگرمیوں یا سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو آزادیٔ اظہار کے اصولوں پر اسی شدت سے آواز بلند نہیں کی جاتی۔ اس تناظر میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی مثالیں بھی دی گئیں۔
‎بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہر ریاست کی اولین ذمہ داری اپنی داخلی اور خارجی سلامتی کا تحفظ ہے، اس لیے قومی سلامتی سے متعلق قوانین پر عمل درآمد ہر ملک کا حق ہے۔
اسی بیان میں بی بی سی کی تاریخ پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ ادارہ برطانوی ریاست کے پروپیگنڈے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور اس کے کردار پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ اس کی ساکھ اور اعتماد برقرار رہ سکے۔

More posts