Baaghi TV

جمہوریت: نعرۂ مستانہ یا عوامی امانت؟تجزیہ شہزادقریشی

جمہوریت بلاشبہ عصرِ حاضر کا سب سے دلکش، مقبول اور پُرکشش سیاسی تصور ہے۔ یہ وہ نظامِ حکمرانی ہے جس کی بنیاد عوام کی حاکمیت، قانون کی بالادستی، مساواتِ انسانی اور اجتماعی فلاح پر استوار ہوتی ہے۔ مہذب اقوام نے جمہوریت کو محض ایک سیاسی بندوبست نہیں بلکہ ایک قومی ثقافت اور اجتماعی شعور کی صورت عطا کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جمہوریت کے ثمرات عام شہری کی دہلیز تک پہنچتے ہیں اور ریاست خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتی ہے۔

پاکستان میں بھی جمہوریت کا چرچا کم نہیں۔ سیاسی جلسوں سے لے کر پارلیمان کے ایوانوں تک، جمہوریت کے حق میں بلند بانگ دعوے اور دلنشیں نعرے سنائی دیتے ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جمہوریت کا ذکر جتنا ہوتا ہے، اس کی حقیقی روح اتنی ہی کم دکھائی دیتی ہے۔ عوام کے نام پر سیاست کی جاتی ہے، لیکن عوامی مسائل اکثر ترجیحات کی فہرست میں پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔

جمہوریت کا بنیادی حسن یہ ہے کہ وہ اقتدار کو عوام کی امانت قرار دیتی ہے، مگر ہمارے سیاسی افق پر اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقتدار خدمت کے بجائے مفاد کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ انتخابی وعدوں کی رنگین دنیا اور زمینی حقائق کے درمیان ایک وسیع خلیج دکھائی دیتی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی زوال، صحت کی ناکافی سہولیات اور انصاف کے حصول میں رکاوٹیں آج بھی کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی کا تلخ باب ہیں۔

حقیقی جمہوریت صرف ووٹ کی پرچی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا ہمہ گیر نظام ہے جس میں ادارے مضبوط، قانون غیر جانبدار، احتساب شفاف اور حکمران جوابدہ ہوتے ہیں۔ جمہوریت وہاں پروان چڑھتی ہے جہاں قومی مفاد کو ذاتی اور جماعتی مفادات پر فوقیت حاصل ہو، جہاں اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ فکری تنوع سمجھا جائے، اور جہاں عوامی خدمت سیاسی کامیابی کا معیار قرار پائے۔

افسوس کہ ہماری سیاسی تاریخ میں جمہوریت اکثر شخصیات، خاندانوں اور گروہی مفادات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ نتیجتاً عوام کو وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جس کا وعدہ جمہوریت کے فلسفے میں کیا گیا تھا۔ جمہوریت کی روح اس وقت مجروح ہو جاتی ہے جب عوام صرف ووٹ ڈالنے تک محدود رہ جائیں اور ان کی مشکلات اقتدار کے ایوانوں میں سنجیدگی سے زیرِ غور نہ آئیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ جمہوریت کو محض ایک نعرۂ مستانہ یا سیاسی ہتھیار کے بجائے ایک مقدس قومی امانت سمجھا جائے۔ ریاستی ادارے، سیاسی جماعتیں اور تمام مقتدر حلقے اگر واقعی جمہوریت کے علمبردار ہیں تو انہیں عوام کی فلاح، قانون کی حکمرانی اور شفاف طرزِ حکمرانی کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔کیونکہ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ نعروں پر نہیں، کردار پر ہوتا ہے۔ اور وہ جمہوریت ہی کامیاب سمجھی جاتی ہے جس میں جمہور کی آواز صرف سنی ہی نہ جائے بلکہ اس کے مطابق فیصلے بھی کیے جائیں۔

More posts