Baaghi TV

عراقی گروہ اور حوثیوں کی سعودی عرب پر ممکنہ حملوں کی تیاری

ریاض: عراقی مسلح ملیشیاؤں اور یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف ممکنہ مشترکہ حملوں کی تیاریوں کا انکشاف ہوا ہے۔

سعودی عرب کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ سعودی، امریکی اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کی انٹیلی جنس رپورٹس میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے ممکنہ حملوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔سعودی عہدیدار کے مطابق ممکنہ اہداف میں شہری اور معاشی تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں، جن میں توانائی کے مراکز، بندرگاہیں اور ہوائی اڈے نمایاں ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ڈرونز اور میزائلوں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی ہے، جس سے خدشہ ہے کہ سعودی عرب کے شمالی اور جنوبی محاذوں سے بیک وقت یا مربوط حملوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔عہدیدار کا کہنا ہے کہ ریاض نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنے اہم اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ سعودی حکام کی جانب سے خطے میں موجود مسلح تنظیموں کی سرگرمیوں اور بڑھتے ہوئے خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی زیرِ قیادت عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعے کی صبح بتایا کہ نجران میں ہونے والے حملے میں 7 سعودی، ایک یمنی، 2 مصری اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوا۔ زخمیوں میں ایک 4 سالہ بچہ بھی شامل ہے، جسے دوسرے درجے کے جھلسنے کی چوٹیں آئیں۔ترکی المالکی نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو اندھا دھند نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادی افواج شہریوں کے تحفظ اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھیں گی۔

سعودی حکام کے مطابق حوثیوں اور عراقی ملیشیاؤں کے درمیان ممکنہ تعاون خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے۔ریاض اور حوثیوں کے درمیان گزشتہ ایک دہائی سے جاری تنازع اب مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر کشیدگی سے مزید جڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی کارروائیوں اور بحری راستوں میں خلل کے باعث خطے کی تجارتی سرگرمیوں اور سعودی تیل کی برآمدات کو بھی خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

More posts